|
اعتدال و توازن : اہل حق کا امتیاز |
|
|
|
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
اُمتِ مسلمہ میں باہمی مذہبی اور اعتقادی اختلاف، بے اعتدالی کے باعث پیدا ہوا۔ ایک طرف بندگانِ خدا اور مقبولانِ بارگاہ کی محبت و عقیدت میں بربنائے جہالت غلو اس حد تک بڑھا کہ بات افراط تک جا پہنچی اور دوسری طرف ردِ عمل میں تخفیف و تنقیص کے باعث معاملہ تفریط تک پہنچ گیا۔ افراط نے جہاں خرافات و بدعات کا دروازہ کھولا وہاں تفریط گستاخی و اہانت کا رنگ اختیار کر گئی۔ پس محبتوں اور عقیدتوں کی حدود اور ان کے مراتب و مدارج کا تعین کرنا لازمی و لابدی امر ہے۔ اہلِ حق ہمیشہ سے حضرات انبیائے کرام علیہم السلام سے لے کر اولیاءے عظام تک فرقِ مراتب کو ملحوظ رکھتے چلے آئے ہیں لہٰذا افرادِ ملت کے درمیان توازن و اعتدال قائم رکھنا ہی صراطِ مستقیم ہے۔
|
|
Read more...
|
|
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
" تصوف " ۔۔۔ ادبی اعتبار سے ایک اجنبی لفظ ہے جس کا عربی لغت میں کوئی وجود نہیں ! اس بات کا سب سے بڑا ثبوت یہ ہے کہ اس لفظ کے معنی میں خود صوفیاء کے درمیان شدید اختلاف پایا جاتا ہے اور اب تک یہ طے نہیں ہوسکا کہ اس لفظ کا کون سا مفہوم صحیح ہے جس کی رعایت سے اس کے حامل کو ’صوفی‘ کہا جاتا ہے؟؟؟ اس کے علاوہ چونکہ یہ لفظ نہ تو قرآن میں موجود ہے اور نہ احادیثِ بنوی میں یہاں تک کہ جماعت صحابہ رضی اللہ عنہم میں سے بھی کسی ایک صحابی رضی اللہ عنہ نے اس لفظ کو استعمال نہیں کیا ہے اس لئے ہم کہہ سکتے ہیں کہ یہ لفظ اور اس سے متعلق سارا فلسفہ اسلام کے خلاف اور ایک ایسی ’بدعت‘ ہے جس کی شریعت اسلامیہ میں کوئی بنیاد نہیں ہے ۔
|
|
Read more...
|
|
دین و شریعت کے دو بنیادی جزو ہیں :
1۔ ظاہری احکام جو آگے چل کر فقہ کے نام سے مدون ہوئے۔
2۔ روحانی و باطنی احکام جو دوسری صدی ہجری میں زہد و رقائق اور تصوف و طریقت کے نام سے معنون ہوئے۔
تصوف کو قرآنی اصطلاح میں تزکےۂ نفوس اور حدیث کی اصطلاح میںاحسان کہتے ہیں۔ تصوف کے اجزائے ترکیبی عہدِ رسالتمآب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور دورِ صحابہ میں عملاً موجود تھے کیونکہ یہ سب قرآن و سنت کی ابدی تعلیمات کا حصہ ہیں۔ تصوف اِسلام کی روحانی اور باطنی کیفیات اور روحانی اقدار و اطوار کا مجموعہ ہی نہیں بلکہ دینِ اِسلام کی علمی، فکری، عملی، معاشرتی اور تہذیبی و عمرانی و غیرہم تمام جہتوں میں اخلاص و احسان کا رنگ دیکھناچاہتا ہے۔ یہ اِنسان کے جسم و رُوح اور اِس کے وجود کی تمام پرتوں پر جاری و ساری ہے۔ تصوف کی تمام تر اصطلاحات قرآن و حدیث سے ماخوذ و مستنبط ہیں۔ اِس حوالے سے ہماری کتاب ’’ حقیقتِ تصوف‘‘ کا مطالعہ فائدہ مند رہے گا۔ یہاں صرف اختصار سے چند نکات پر اکتفا کیا جاتا ہے۔
|
|
Read more...
|
|
|
اللہ تعالیٰ کے بابرکت نام سے یہ غوث اعظم ڈاٹ کام کی پہلی پوسٹ ہے جو اردو میں ہے۔ |
|
ابھی تک میں جملہ کو دائیں طرف سے لکھنے پڑھنے کے قابل بنانے کی کوشش کر رہا ہوں۔ اصل میں یہ کام شروع کرنے سے پہلے میں نے سوچا نہیں تھا کہ یہ اتنا کمپلیکس ہوگا۔ |
|
|
محبت غوثِ اعظم اور امام احمد رضا |
|
|
|
|
از: مولانا غلام مصطفٰی قادری رضوی
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
امام احمد رضا کے عشق کی کہانی بڑی نرالی ہے۔ جس پر لکھتے چلے جایئے، نئے نئے اندازِ عشق و محبت نظر آئیں گے۔ اور کیوں نہ ہو کہ انہوں نے قرآن و احادیث سے درسِ محبت و الفت سیکھا ہے۔ صحابہ کرام کے مبارک گوشوں سے اپنی فکر کو تازگی بخشی اور تصورات و خیالات کو نئی زندگی بخشی۔ اسی لیے آج بڑی بڑی شخصیتیں ان کے عشق و ادب کی داد دے رہی ہیں۔
|
|
Read more...
|
|
عطائے رسول سلطان الہند حضرت خواجہ غریب نواز کے حالات و کرامات |
|
|
|
|
از: محمد احرار القادری
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
ذی الحجہ کا مہینہ تھا پانچ سو تراسی سن ہجری اور گیارہ سو ستاسی عسیوی تھی، مکۃ المکرمہ کی سر زمین پر میدان محشر کا سا سماں تھا، چہار دانگ عالم سے فرزندان توحید اپنے معبود حقیقی کے اس فرمان “واتموا الحج والعمرۃ للہ، کی تعمیل کیلئے سر نیاز خم کئے سیل رواں کی طرح جوق در جوق جمع ہو گئے تھے
|
|
Read more...
|
|
|
|
|
|
|
Page 1 of 5 |