|
بسم اللہ الرحمن الرحیم
وحدت الوجود
خدا کے سوا عالم میں کوئی اور شے ہے ہی نہیں یا جو کچھ ہے وہ ہے ہم سب ہم سب کچھ نہیں اس عقیدے یا نظریے کا نام وحدت الوجود یا ہمہ اوست ہے۔ اس عقیدے کی رو سے صوفیوں کے نزدیک یہ ثابت ہوتا ہے کہ خدا کے سلسلئہ کائنات سے ایک الگ اور جدا گانہ ذات ہونے کا خیال صحیح نہیں جیسا کہ اہل ظاہر کی رائے ہے اگرچہ یہ عقیدہ کہ اللہ تعالیٰ سلسلہ کائنات سے الگ نہیں تمام صوفیائے کرام کے نزدیک تسلیم شدہ امر ہے۔ لیکن اس عقیدے کی تعبیر میں ان کے یہاں بھی اختلاف ہے مولانا روم کہتے ہیں۔ چوہست مطلق آمد درعبارت بہ لفظ من کنند ارزو ے اشارت وجود مطلق جب تشخصات و تعینات میں جلوہ افروز ہوتا ہے تو ممکنات کے اقسام پیدا ہوتے۔ یہ اقسام کس طرح پیدا ہوتے ہیں۔ بالکل اسی طرح جیسے حباب اور موج ہر چند یہ قسمیں مختلف ذاتیں شمار کی جاتی تھیں۔ لیکن حقیقت میں ان کا وجود پانی کے سوا اور کچھ نہیں چنانچہ مولانا کہتے ہیں۔
گفتم از وحدت و کثرت سخنے گوئی بہ رمز گفت موج و کف و گرداب ہمانا دریا ست یا ایک مثال سے یوں سمجھئے کہ جس طرح دھاگے میں جو گرہیں لگائی جاتی ہیں۔ ان کا وجود اگرچہ دھاگے سے ایک الگ اور علیحدہ شے نظر آتا ہے۔ لیکن واقعتہ گرہ دھاگے سے کوئی مختلف چیز نہیں۔ وحدت الوجود کے مسئلہ پر غالب علیہ الرحمتہ فرماتے ہیں۔ اے زوہم غیر غو فادر جہاں انداختہ گفتہ خود ھرتے خود رادرگماں انداختہ اے خالق تو نے عالم کے غیر و ماسوا ہونے کا وہم دلوں میں ڈال دیا ہے لیکن تو نے درحقیقت خود ہی ایک حرف کن کہہ کر اپنے آپ کو اس گمان کا شکار بنایا ہے کہ مخلوق اپنے خالق سے کوئی علیحدہ شے ہے۔ دیدہ بیروں دوروں از خویشتن پر دانگہی پردہ رسم پرستش درمیاں انداخستہ جو نور آنکھ کے اندر ہے وہی آنکھ کے باہر ہے گویا تیری آنکھیں اپنے ہی نور سے اپنا ظہور دیکھ رہی ہیں۔ یعنی شاہد و مشہود ، ناظر و منظور اور عابد و معبود ایک ہی ذات ہے اے خالق تو نے دوئی کا دھوکہ دے کر پرشتش کی رسم کا پردہ اپنی ہی دو حیثیتوں کے درمیان ڈال دیا ہے۔ یا چنیں ہنگامہ در وحدت نمی گنجد دوئی مردہ را از خویش دریا بر کر اں اند اخستہ مگر اے خالق کثرت کی ہنگامہ آرائی کے باوجود تیری یکتائی میں دوئی کی مطلقا کوئی گنجائش نہیں۔ دریائے وحدت نے دوئی کو اس طرح نکال باہر کیا ہے جس طرح کوئی مردہ (لاش) موجوں کے تھپیڑے کھاتے ہوئے ساحل دریا سے آلگے۔ وجودی صوفیوں اور فلسفیوں نے وحدت و کثرت کے موضوع کو نہایت آسان اور صادہ الفاظ میں سمجھانے کے لئے بیشتر مثالیں دی ہیں۔ مثلاً مولانا روم کہتے ہیں، لوہا جب آگ میں گرم کیا جاتا ہے تو وہ گرمی آتش پکڑ کر ہمرنگ آگ بن جاتا ہے اگرچہ وہ آگ نہیں بن جاتا۔ تاہم اس میں آگ کی تمام خاصیتیں پیدا ہوجاتی ہیں۔ حتیٰ کہ یہ تسلیم کرنا پڑتا ہے کہ وہ آگ ہوگیا۔ وجود ی صوفیہ کہتے ہیں کہ حدیث نبوی میں ہے۔کہ خلق الادم علیٰ صورتہِ یعنی اللہ تعالےٰ نے آدم کو اپنی صورت پر پیدا کیا ہے چنانچہ اسی مناسبت سے انسان میں جو مختلف صفات پائی جاتی ہیں۔ وہ سب کی سب صفات ربانی ہیں یا دوسرے لفظوں میں یوں کہئے کہ مظہر خدا وندی ہیں۔ صوفیائے کرام کہتے ہیں کہ اللہ تعالےٰ کے بہت سے نام ہیں۔ مثلاً رحمٰن۔ رحیم۔ ستار۔ غفار۔ قھار۔ جبار۔ رزاق۔ یعنی مسمی واحد اور اسما ء بہت سے ہیں۔ لیکن اللہ تعالےٰ کے ہر اسم سے ایک ہی ذات مراد لی جاتی ہے۔ گویا اس اعتبار سے واحد مسمیٰ کے متعدد اسماء اس کے عین ہیں اور یہ تمام اسماء اس کی صفات پر دلالت کرتے ہیں۔ پھر یہ بات ذہن نشین کر لیجئے کہ صفات سے ممکنات کا ظہور ہوا ہے جس کا مطلب یہ ہوا کہ اس کائنات کی ہر شے کسی نہ کسی اسم کی مظہر ہے اس لئے ثابت یہ ہوا ہے کہ موجودات کی ہر چیز عین ذات ہے۔ اللہ تعالیٰ تمام موجودات کاظل اور ان کی اصل ہے۔ کائنات اس کاظل اور ظل حقیقت میں اصل کا مظہر ہوتا ہے۔ جیسے انسان کا جب زمین پر سایہ پڑتا ہے۔ تو بظاہر وہ ایک الگ شے معلوم ہوتا ہے۔ لیکن حقیقت میں اس کا کوئی وجود نہیں جو کچھ ہے انسان ہی ہے۔ اسی طرح کائنات کا وجود غیر حقیقی اور صرف خیال ہے وجود صرف خدا کا ہے۔ کائنات وکثرت صرف وحدت کے اعیان و مظاہر کی حیثیت سے دکھائی دیتی ہے۔ بذاتہ ِ اس کا اپنا کوئی وجود نہیں اس لئے وجود جو ہے وہ وحدت ہی کا ہے اصغر کہتے ہیں۔ پھر میں نظر آیا نہ تماشا نظر آیا جب تو نظر آیا مجھے تنہا نظر آیا درد کہتے ہیں۔ ماہٹتیوں کو روشن کرتا ہے نور تیرا اعیان ہیں مظاہر ، ظاہر ظہور تیرا غالب کہتے ہیں ہے مشتمل نمود صور پر وجود بحر یاں کیا ہے قطرہ و موج و جہاں میں ایضا ً اصل شہو دو شاہد مشہود ایک ہے حیراں ہوں پھر مشاہد ہ ہے کس حساب میں درد کہتے ہیں۔ جمع میں افراد عالم ایک ہیں گل کے سب اوراق برہم ایک ہیں۔ میسر کہتے ہیں۔ گوش کو ہوش کے ٹک کھول کے سن شور جاب سب کی آواز کے پردے میں سخن ساز ہے ایک وحدت الوجود کے اس عقیدے کی بدولت بعض اذہان اس خیال کی طرف جاتے ہیں۔ کہ فرعون جو خدا ہونے کا مدعی ہوا۔ اس نے کیا غلط کیا اور اناالحق کی جو آواز منصور کے منہ سے نکلی اس میں کیا برائی تھی۔ جب وحدت الوجود کے نظریے کی رو سے ہر شے خدا ہے تو ناحق ان لوگوں کو مورد الزام ٹھہرایا گیا۔ درحقیقت یہ مسئلہ اس قدر نازک ہے کہ اگر اس کی تعبیر میں ذرا سی بھی لغزش ہو جائے تو اس کی حدیں کفر و الحاد اور زند یقیت سے جا ملتی ہیں۔ ہم وحدت الوجود کے موضوع کو قدرے تفصیل سے بیان کریں گے۔ اور جہاں جہاں مجدد و الف ثانی نے وجودیوں سے اختلاف کیا ہے۔ا نہیں بالا جمال پیش کریں گے۔ عقیدہ وحدت الوجود: عقیدہ وحدت الوجود کو سب سے پہلے ذوالنون مصری نے (متوفی ۵۴۲) تیسری صدی ہجری میں پیش کیا۔ ظاہر ہے کہ موصوف مصر کے رہنے والے تھے اس لئے ان کا اشراقیت جدیدہ سے متاثر ہونا قطعی ممکن ہے۔ یہ انہی اثرات کا نتیجہ تھا کہ جناب ذوالنون مصری نے اپنی افقا و طبع سے تصوف اسلام کو وحدت الوجود ایسا پیچیدہ عقیدہ بخشا اور اس کے نظریات میں وجد و معرفت کے خیالات شامل کئے اور نوفلا طونی رجحانات کو صوفیائے اسلام کے ذہن میں رائج کیا۔ جناب مصری کے علاوہ ان کے ہم عصر بزرگ جناب یا یزید بسطامی نے بھی اس سلسلے میں بڑا کام کیا انہوں نے صوفیہ کو خود فراموشی اور فنا کے مسائل تعلیم کئے۔ اور وحدت الوجود کے نظریات کو شطحیات کے انداز میں پیش کیا اور پھر ان کے مرید جناب ابوسعید ابوالخیر نے اپنی رباعیات میں اپنے مرشد کے موضوع مسخن کو بڑی ترقی دی واضح رہے کہ یہ ابو الخیر وہی بزرگ ہیں جن کا اسم گرامی بھی جناب مخدوم علی ہجویری رحمتہ اللہ علیہ صاحب کشف المجوب کے اساتذہ کی فہرست میں شامل ہے۔ مختصرا ً یہ کہ تیسری صدی ہجری علم تصوف کی تصنیفات و تالیفات کا ابتدائی زمانہ ہے اس دور میں جو کتابیں لکھی گئیں ان میں جناب جنید بغدادی المتوفی ۹۲ ھ کی کتاب رسالہ القصدالی اللہ عربی زبان میں تصوف کی قدیم تریں کتاب خیال کی جاتی ہے۔ جناب جنید بغدادی نے تصوف کے مسائل میں ایک ترتیب اور ضابطہ پیدا کیا فقہ اور تصوف کے موجوع سے صوفیائے کرام اور علمائے عظام کے درمیان جو آویزش پیدا ہوگئی تھی اسے یہ کہہ کر مٹانے کی سعی بلیغ فرمائی کہ شریعت اور طریقت دو علیحدہ اور الگ الگ راہیں یا مسلک نہیں بلکہ ایک ہی تعلیم کے دورخ ہیں جو آپس میں ایک دوسرے سے مختلف نہیں بلکہ دونوں ایک ہی ہیں۔ بعضوں کا خیال ہے کہ تصوف کے موجوع پر جس نے سب سے پہلے قلم اٹھایا و ہ جناب یحیٰ بن معاذ رازی ہیں۔ اور اپنے دعوے کے ثبوت میں وہ رازی کی کتاب المریدین پیش کرتے ہیں۔ جناب معاذ رازی نے ۶۰۲ ہجری میں وفات پائی ان کے علاوہ شیخ ابو النصر سراج (متوفی ۸۷۳ ھ) نے کتاب اللمع لکھی نیز عبدالکریم بن ہوازن قیشریہ تحریر کیا جس میں فنا۔ بقا۔ بسط۔ تال اور جمع و تفرقہ وغیرہ صوفیانہ اصطلاحات قائم کیں۔ علاوہ ازیں تیسری صدی ہجری ہی ہیں تصوف کے مختلف سلسلے قائم ہوئے جو بڑھتے بڑھتے پھر سینکڑوں کی تعداد تک پہنچ گئے۔ تصوف کے ابتدائی سلسلوںمیں سے چند ایک یہ تھے مثلاً ۱۔ محاسبیہ اس کے بانی جناب جنید بغدادی کے محترم بزرگ جناب عبد اللہ حارث محاسبی متوفی ۳۴۲ ھ ہیں۔ انہوں نے حال و مقام کے اصطلاحی فرق مقرر کئے اور بہت سی صطلاحات قائم کیں۔ ۲۔ قیصریہ اس سلسلے کو جناب شیخ قیصری نے قائم کیا اس سلسلے کی بنیاد امت پر ہے یعنی اس کے پیر و بظاہر ایسے کام کرتے جس سے ان کی لوگوں میں رسوائی ہو اور انہیں ملامت کی جائے۔ ان لوگوں کو اسی اعتبار سے ملامتیہ بھی کہا جاتا ہے۔ یہ لوگ یہ تمام اہتمام اس لئے کرتے ہیں کہ ان کی اطاعت اور زہد و عبادت ریا کاری نہ بن جائے۔ ۳۔ طیغوریہ اس سلسلے کی ابتدا جناب ابویز ید طیغوری بسطامی سے ہوئی انہوں نے اپنے مقتدین کو صحود سکر کی تعلیم دی۔ صحود سکر کا مختصر بیان "کشف المجوب کے مضامین کے باب میں کسی مقام پر پیش کریں گے۔ ۴۔ جنید یہ تصوف کا یہ سلسلہ جناب جنید بغدادی نے قائم کیا جس کی بنیاد صحو و محبت پر تھی اور مراقبہ و مجاہدہ خاص شغل قرار پایا۔ چوتھی صدی ہجری میں حسین بن منصور رحلاج نے مقتدر با اللہ عباسی کے عہد خلافت میں وحدت الوجود کے نظریات کو ایک نئے انداز میں پیش کرنا شروع کیا اب تک تعلیم و تلقین اشارے اور کنائے میں ہوئی یا گوشئہ خلوت میں کہا جاتا لیکن منصور نے بر سر عام لب کشائی کرنا شروع کر دیا۔ یہاں تک کہ وحدت الوجود کے فتنے سے بچنے کے لئے منصور کو ۹۰۳ ھ میں سولی پر لٹکانا پڑا۔ منصور سے متعلق علمائے کرام میں غم و غصہ اور اختلاف تو تھا ہی اہل تصوف بھی اختلاف پیدا ہوگیا۔ ایک گروہ کے نزدیک اسے واجب التعظیم ٹھہرایا گیا ہے اور دوسرے گروہ نے اسے ملحدوز ندیق خیال کیا ہے۔ فرید الدین عطار نے منصور کو قتیل اللہ فی سبیل اللہ شیر بثیہ تحقیق ایسے القاب سے یاد کیا ہے۔ ابو بکر شبلی کہتے تھے کہ میں اور منصور نے عقل سے جان گنوالی اور میں نے جنون سے اپنی جان بچالی جناب فریدالدین عطار کے ساتھ ساتھ اس بات کا بھی اعتراف کرتے ہیں کہ بعض مشہور صوفیائے کرام منصور کی بزرگی تسلیم نہیں کرتے۔ جناب مخدوم علی ہجویری اپنی کتاب کشف المجوب میں لکھتے ہیں کہ جناب منصور کی حلاج کی تعظیم و تکریم کرتا ہوں لیکن کسی کو ان کے مسلک کی پیروی کی اجازت نہیں دے سکتا کیونکہ اس کی بنیاد نہیں۔ چنانچہ ہجویری کے اس قول کی روشنی میں اگر دیکھا جائے تو یہ خیال یقیناً صحیح معلوم ہوتا ہے۔ کہ وحدت الوجود کے مسئلہ پر جن خیالات کا اظہار منصور نے کیا ہے۔ قدیم صوفیہ کو ان سے دور کا بھی تعلق نہ تھا۔ پانچویں صدی ہجری میں امام غزالی نے اس ما بعد الطبعی نظام کو مٹانے یا اس کی اصلاح کرنے کی سعی بلیغ فرمائی جو ایرانی وہندوستانی مذاہب کے اثر سے تصوف میں شامل ہو چکا تھا۔ نیز امام غزالی نے مسائل تصوف اور احکام شریعت میں باہم مطابقت کرنے کی مقدور بھر کوشش کی جس سے پایہ تصوف علمائے اسلام کی نگاہ میں بلند نظرآنے لگا علاوہ ازیں امام غزالی نے سفر۔ سالک۔ تجلی۔ فصل، علت ، مکان ۔ رسم ہمت اور ذہاب وغیرہ ہم صوفیانہ اصطلات وضع کیں۔ ۰۱ حیا العلوم کیمیائے سعادت اور مشکواۃ انوار وغیرہ کی مشہور تصنیفات ہیں۔ امام غزالی کے بعد خواجہ فرید الدین عطار نے تصوف کے موضوع پر خامہ فرمائی کی اور مثنوی منطق الطیر اور تذکرۃ اولیا ایسی دو بلند پایہ کتابیں لکھیں پھر ان کے بعد جناب مولاناجلال الدین رومی کا نام آتا ہے جن کی مثنوی کے بارے میں یوں کہا جاتا ہے۔ مثنوی مولوی معنوی ہست قرآن درزبان پہلوی آخر میں جنا ب خواجہ عبید اللہ احرار کے شاگرد مرید مولانا عبدالرحمٰن جامی آتے ہیں۔ نفحات الانس بوائج جامی آپ کی تصوف کے موضوع پر ذومشہور کتابیں ہیں۔ مختصرا ً یہ کہ تصوف اپنے علمی ادوار کے ساتھ ساتھ وحدت الوجود کے نظریات کی برابر اشاعت کرتا رہا حتیٰ کہ محی الدین عربی ؒایسے عرب نژاد فلسفی کا زو رقلم اسے میسر آگیا۔ جناب محی الدین ابن عربیؒ جو اپنے علمی تبحر کی بدولت شیخ اکبر کہتے ہیں سب سے پہلے بزرگ ہیں جنہوں نے وحدت الوجود کے نظریے کو خالص فلسفیانہ انداز میں پیش کیا اور اس سلسلے مےں قصوص الحکمان کی معرکتہ الآراتصنیف خیال کی جاتی ہے۔ اس کتاب کی مقبولیت کا اس سے بڑھ کر او رکیا ثبوت ہوگا کہ شیخ اکبر باوجود عربی نژاد کے ہونے کے ایرانی صوفیاء آج تک ان کی تحریم و تکریم بجا لاتے ہیں اور کتاب کا نہایت ذو ق و شوق سے مطالعہ کیا جاتا ہے۔ حاصل کلام یہ کہ چھٹی صدی ہجری میں شیخ محی الدین ابن عربی المتوفی ۰۶۵ ہجری نے وحدت الوجود کے مسئلے کو فلسفیانہ انداز اور استد لالی رنگ میں پیش کیا قصوص الحکم کے علاوہ فتوحات مکیبہ بھی تصوف کے موضوع پر ان کی مشہور تصنیف ہے۔ وحدت الوجود کے نظریے کو قرآن حکیم کی تعلیمات کے عین مطابق ثابت کرنے کے لئے جو آیات قرآنی پیش کی جاتی ہیں ان مین سے چند ایک یہ ہیں۔ ۱۔ ھو الاول ھو الآخر ھو الظاہرھو الباطن: وہی اول ہے وہی آخر ہے وہی ظاہر ہے۔ وہی باطن ہے۔ ۲۔ اللہ نور السموات والارض اللہ آسمانوں اور زمینوں کا نور ہے۔ ۳۔ ھو معکم امین ما کنتم وہ تمہارے ساتھ ہے تم جدھر بھی رخ کرو ۴۔ فاینما تو لو فثم وجہ اللہ تم جس طرف بھی منہ کرو اس طرف اللہ کا منہ ہے۔ ابتدائی دور کے جن بزرگوں کو یہ لوگ صوفیائے قدیم ٹھہراتے ہیں ان کے یہاں دیکھئے تو ان باتوں کا مطلقاً کوئی گزر نہیں۔ مثلا ً خواجہ حسن بصری ،ابراہیم ادہم فضیل بن عیاض ،امام سفیان ثوری رحہم اللہ تعالیٰ اجمعین کے یہاں خیالات نے رمزو کنائے یا تشبیہ واستعارہ کی صورت اختیار نہیں کی تھی۔ یا با الفاظ دیگر یوں کہئے کہ ان بزرگوں کی (زبان) نثر نے نظم کی یعنی شاعری کی صورت اختیار نہیں کی تھی۔ لیکن جب سے تصوف کی زبان شعرو شاعری کے حلقے میں آئی تب سے اس موضوع پر نئے نئے خیالات اور افکار پیش ہونے لگے۔ حتیٰ کہ تصوف کے تمام مسائل پر وحدت الوجود کا مسئلہ بازی لے گیا۔ بلکہ مسائل تصوف ہیں وحدت الوجود کا نظریہ جان تصوف ٹھہرا جو سراسر عجمی ذہن کی پیداوار ہے۔ در اصل اللہ تعالےٰ نے قرآن حکیم میں اپنی کہنہ، کائنات کی تخلیق ۔ مخلوقات کی حقیقت اور خالق و مخلوق کے درمیان جو رشتہ ہے ان مسائل سے متعلق کوئی مکتبہ فکر قائم نہیں کیا۔ جب اسلام کا دائرہ وسیع ہونے لگا۔ اور غیر مسلموں نے اسلام قبول کرنا شروع کرنا شروع کیا تو ان کے اذہان اسلام کی تعلیمات سے پورے طور پر مستفید نہ ہونے کے سبب ان مسائل کی طرف پھر گئے جن کی بنیاد پر وحدت الوجود کا عقیدہ قائم ہوا۔ قرآن حکیم میں چونکہ اللہ تعالیٰ کے اول و آخر حاظر و ناظر ۔ ظاہر و باطن۔ قادر و غالب۔ جبار وقہار اور رب نور السموات والارض ہونے کا ذکر بار بار آیا ہے۔ اس لئے جب مذکورہ بالا مسائل پیدا ہوئے تو انہوں نے اللہ تعالیٰ کی ان صفات سے بآسانی " وحدت الوجود " کے نظریے کی صورت میں حل تلاش کر لیا۔ قرآن حکیم میں سے ایسی آیات موجود ہیں جن سے مذکورہ بالا قسم کے مسائل کا استبناط کر کے عقل کے مطالبات پورے کئے جاسکتے ہیں۔ لہٰذا وحدت الوجود کا مسئلہ خالص فلسفیانہ شان میں وجود پذیر ہوا جس کی آگے چل کر محی الدین ابن عربی نے فلسفیانہ انداز میں نوک پلک سنواری۔ محی الدین ابن عربی کی تحریر کا خلاصہ یہ ہے کہ وجود صرف وحدت کا ہے دوسرے لفظوں میں یوں کہئے کہ خدا کے سوا کسی دوسری شے کو وجود ہے ہی نہیں۔ جو کچھ ہے خدا ہے ہم سب کچھ نہیں۔ اگرچہ کائنات اور اس کی بے شمار اشیا ہر وقت انسان کے مشاہدے اور استعمال میں آتی رہتی ہیں۔ وہ بد یہی طور پر موجود نظر آتی ہیں۔ تاہم وجود کو وحدت محض میں منحصر کر دینے کے بعد ان تمام اشیاکے وجود سے انکار کرنا لازم ہے ۔ ہر چند کائنات وجود تو رکھتی ہے لیکن اس کا وجود حقیقی نہیں بلکہ وہ اللہ تعالیٰ کے وجود کاظل یا پر تو ہے اگرچہ خدا کی صفات میں تعدد ہے۔ لیکن تمام صفات عین ذات ہیں۔ او ر یہ کائنات اللہ تعالیٰ کی صفات کی تجلی کا نام ہے لہٰذا اس اعتبار سے وہ بھی اپنے ظہور مےں عین ذات ہے۔ کائنات کا وجود فی نفسہٖ کچھ نہیں صرف اللہ تعالیٰ کی صفات کا ظہور ہے اور چونکہ صفات عین ذات ہیں۔ اس لئے کائنات اور خدا کی ذات میں عینیت کا علاقہ ہے اور خدا کی ذات چونکہ وحدت مطلقہ ہے اس لئے وجود وحدت ہی وحدت کا ہے۔ پس یہی وحدت الوجود یا ہمہ اوست کا نظریہ ہے جو اسلام کی تعلیمات کے عین مطابق ہے۔ابن عربی کہتے ہیں اللہ تعالیٰ قرآن حکیم میں فرماتا ہے ۔نحن اقرب الیہ من حبل الورید کہ ہم انسان سے اسکی شہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہیں۔ اس قربت کا مطلب یہ ہے کہ اس کے سوا کچھ اور نہیں کہ اللہ تعالیٰ ہی انسان کے اعضاء و جوارح کا اصل ہے اس لئے خدا اور انسان میں عنت ہے۔ اسی طرح حدیث میں بھی آتا ہے ہے خلق الادم علیٰ صورتہٖ یعنی اللہ تعالیٰ نے آدم کو اپنی صورت پر پیدا کیا۔ پس اس سے یہ ثابت ہوا کہ انسان میں اللہ تعالیٰ کی تمام صفات موجود ہیں۔ یہی سبب ہے کہ انسان کو اپنے نفس کی معرفت حاصل کرنے کی توجہ دلائی گئی ہے۔ کیونکہ اپنے نفس کی معرفت اللہ تعالیٰ کی معرفت کے حصول کا ذریعہ ہے من عرف نفسہ فقد عرف ربہ جس نے اپنے نفس کو پہنچانا اس نے اپنے رب کو پہچان لیا۔
http://forum.kalpoint.com/showthread.php?t=76252
|
|
صوفی ازم کیا ہے ؟ ہمارے معاشرے میں اولیاء اللہ، بزرگان دین یا صوفیاء کے بارے میں یہ تصور ہے کہ اللہ والا وہ ہوتا ہے جس کے ہاتھ میں تسبیح ہو۔ جائے نماز کندھے پر ہو، بدن پر گدڑی اوڑھی ہوئی لیکن نہ صرف غلبہ دین کی جدوجہد سے لاتعلق ہو بلکہ اس کا طرز عمل یہ ہو کہ اگر کوئی اسے تھپڑ رسید کرے تو وہ دوسرا گال پیش کر دے یا جواب میں دعائیں دیتا ہو۔ یاد رکھئے یہ تصوف اور طریقت نہیں۔ اسلامی تصوف کا موضوع اور مقصد جہالت سے نجات اور معرفت رب کا حصول، ثانیاً تزکیہ نفس، ثالثاً روح کو انوار الہیٰ سے منور کرنا، رابعاً دنیا اور اس کی آسائشوں سے بے رغبتی اور خالق حقیقی سے مضبوط تعلق اور خامساً مخلوق الہیٰ کی خدمت کرنا ہے۔ لہذا جہاں تک تصوف کے مقاصد اور موضوع کا تعلق ہے وہ عین دین ہے اور عین مطلوب ہے۔ تصوف کی جو اصطلاح ہمارے ہاں مروج ہے وہ غیر قرآنی ہے۔ کتاب و سنت میں تصوف کے لئے اہم اصطلاح ” احسان “ ہے جس کے معنی کسی سے حسن سلوک کرنا ہے یا بھلائی کرنا ہے۔ تصور کے ماخذ کے بارے میں ہمارے ہاں جو چار آراء پائی جاتی ہیں کہ یہ لفظ عربی کے مادے سے اخذ کیا گیا۔ ان میں سے تین تو صد فیصد غلط ہیں چنانچہ ایک رائے ہے یہ کہ لفظ ” صفا “ سے بنا ہے حالانکہ صرف ونحو کے کسی قاعدے کی رو سے ” صفا “ سے ” صوفی “ کا لفظ نہیں بنتا اس سے ” صفوی “ بنے گا۔ دوسری رائے ہے کہ یہ ” صفہ “ سے بنا ہے۔ یہ بھی غلط ہے کیونکہ ” صفہ “ سے ” صفی “ بنتا ہے۔ البتہ ایک رائے یہ ہے کہ اس کا مصدر ” صوف “ ہے۔ یہ بات ایک درجے میں قابل قبول ہے کیونکہ گرائمر میں صوف سے صوفی بن جاتا ہے۔ اس ضمن میں راقم کی رائے مختلف ہے کہ لفظ تصوف کا ماخذ یونانی لفظ ” Sophio ” ہے جو بعض علوم کے ساتھ لاحقے کے طور پر سامنے آتا ہے مثلاً Philosophy یا Theosophy وغیرہ۔ بہرحال غیر قرآنی اصطلاح کی وجہ سے کتاب و سنت کے شیدائیوں میں اس سے بُعد پیدا ہو گیا اور اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ شریعت اور طریقت میں تفریق ہو گئی حالانکہ اصلاً کوئی تفریق نہیں۔ اب ہم اپنے اصل موضوع کا جائزہ لیتے ہیں کہ کیا تصوف کا طریقہ منصوص و مسنون ہے ؟ اور یہ کہ ” دین کا اصل مخاطب فرد ہے۔ “ یعنی ہر انسان پر اصل ذمہ داری اس کی اپنی ہے یا دوسروں کو دعوت، تلقین، تبلیغ، نصیحت جو بھی ممکن ہو کرنا اس کے دینی فرائض میں شامل ہے۔ انسانی شخصیت کے اندر دو متحارب اور باہم مخالف اور متضاد عناصر اس کا نفس حیوانی اور اس کی روح ملکوتی ہے لہذا روح کی تقویت کے لئے سامان کیا جائے اور حیوانی عنصر کی تہذیب کے لئے تزکیہ کیا جائے۔ اس تزکیہ کا مقصد نفس کو فنا کردینا نہیں بلکہ ضبط نفس یعنی سیلف کنٹرول اور تزکیہ نفس یعنی سیلف پیوریفیکیشن ہے اور یہ دونوں چیزیں مطلوب ہیں۔ اسلام میں نفس کشی یا سیلف انحیلیشن کا کوئی مقام نہیں جبکہ روح کی تقویت کے لئے ذکر الٰہی ہے اور اس کا حاصل ایمان ہے اور ذکر الٰہی کے ضمن میں اہم ترین شے قرآن ہے جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ یہ ” الذکر “ ہے یعنی کُل کا کُل ذکر یہی ہے۔ ذکر کا دوسرا ذریعہ نماز ہے اور اس کو بھی قرآن کے ساتھ ادا کرنا ہے۔ ذکر کا تیسرا ذریعہ اذکار مسنونہ اورادعیہ ماثورہ ہیں یعنی حضرت محمد نے جن اذکار کی تلقین کی ہے اور جو دعائیں آپ سے منقول ہیں اور آپ کا روزمرہ کا معمول بھی تھیں۔ ان اذکار مسنونہ کو اپنی زندگی کا معمول بنانے سے ایمان کی شدت اور گہرائی میں اضافہ ہوتا چلا جاتا ہے۔ یہاں تک کہ انسان منزل ” تصوف یا احسان “ کو پا لے۔ انفرادی ہدف احسان کے حصول کے بعد اب اجتماعی ہدف انسان کے سامنے آتا ہے اور وہ ہدف ہے معاشرے میں جاری نظام ظلم کو ختم کر کے نظام عدل و قسط کو قائم کیا جائے تاکہ زیادہ سے زیادہ تعداد میں انسان اسلامی تصوف یا احسان سے مستفید ہو سکیں۔ ذرا غور کیجئے کہ ایک شخص کس قدر خودغرض ہو گاکہ وہ برسہا برس سے جنگلوں اور ویرانوں میں مخالفت نفس کے لئے مشقتیں جھیل رہا ہے، خود کو مانجھ رہا ہے، رگڑ رہا ہے اور دوسری جانب کروڑوں انسان مسلسل ظلم کی چکی میں پس رہے ہیں۔ انسانوں کی عظیم اکثریت کے لئے وہ موقع ہی میسر نہیں کہ کوئی اعلیٰ خیال یا اونچا نصب العین ان کے حاشیہ خیال میں گزر سکے۔ اگر کوئی اپنی روح کو نفس کی بیڑیوں سے آزاد کرانے کی کوشش کر رہا ہے تو دوسروں کو بھی ظلم و استحصال سے نجات دلانے کی جدوجہد کرے تاکہ وہ بھی ایمان کی دولت سے مستفید ہو سکیں۔ سیاسی جبر، معاشی استحصال اور معاشرتی اونچ نیچ پر مبنی اجتماعی نظام سے فرد کا متاثر نہ ہونا ممکن ہی نہیں ہے۔ حضور کی حدیث ہے کہ ” فقر و فاقہ، احتیاج اور افلاس انسان کو کفر تک پہنچادیتے ہیں “۔ حقیقی صوفی ازم کے ضمن میں ایک اور نکتہ نوٹ کر لیں کہ خدمت خلق کی تین منزلیں ہیں۔ پہلی منزل بھوکوں کو کھانا کھلانا، ضرورت مندوں کی امداد کرنا، دوسری منزل خدمت خلق کے حوالے سے لوگوں کی عاقبت سنوارنے کی کوشش کرنا ہے۔ اللہ کی طرف بلانا۔ اس سے بڑی کوئی خدمت خلق ہو ہی نہیں سکتی کہ انسان دوسروں کی ابدی زندگی کی فلاح کے لئے کوشش کرے۔ خدمت خلق کی تیسری منزل یہ ہے کہ خلق خدا کو ظالمانہ نظام کے جبر و استحصال سے نجات دلانے کی کوشش کی جائے۔ صرف پہلی قسم کی خدمت کو کل سمجھ لینا دین کے تصور خدمت خلق کو محدود کرنے کے مترادف ہے۔ اس سلسلے میں اصل حکیمانہ قول حضرت شاہ ولی اللہ کا ہے وہ فرماتے ہیں کہ ” جس معاشرے میں تقسیم دولت کا نظام غیر منصفانہ ہو گا وہاں ایک جانب دولت کے انبار لگیں گے، عیاشیاں ہوں گی، بدمعاشیاں اور خرمستیاں ہوں گی اور دوسری جانب فقر و احتیاج کا دور دورہ ہو گا اور انسانوں کی عظیم اکثریت بار برداری کے حیوانات کی مانند زندگی گزارنے پر مجبور ہو جائے گی۔ اللہ تعالیٰ سے امیر بھی غافل اور غریب اور محتاج بھی غافل، امیر بھی محروم اور محتاج بھی محروم۔ ان حالات میں نظام عدل اجتماعی کے قیام کے بغیر انسانوں کی عظیم اکثریت کے لئے روحانی ترقی کا سوال ہی پیدا نہیں ہو سکتا
http://hmmad.wordpress.com/2009/08/07/%D8%B5%D9%88%D9%81%DB%8C-%D8%A7%D8%B2%D9%85/ |
|
مولانا ذوالفقار احمد نقشبندی
علم تصوف کے شرعی ثبوت کے لیے تین دلائل بیان کیے جاتے ہیں : دلیل نمبر الله جل شانہ کا فرمان ہے:﴿وذروا ظاھر الاثم وباطنہ﴾․ (الانعام آیت:140) ترجمہ: اور ظاہری گناہ اور پوشیدہ گناہ سب چھوڑ دو۔ تفسیر خازن میں اس آیت کے تحت مرقوم ہے:”المراد بظاہر الاثم افعال الجوارح، وباطنہ افعال القلوب“․ ( تفسیر خازن ج2 ص:146)
|
|
Read more...
|
|
علم حدیث میں ائمہ تصوف کا مقام و مرتبہ |
|
|
|
|
شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری
ترتیب و تدوین: محمد یوسف منہاجین
شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری نے شہر اعتکاف میں امام عبدالرحمن السلمی کی کتاب ’’طبقات الصوفیہ‘‘ کا درس ارشاد فرماتے ہوئے ’’ائمہ تصوف کا علم حدیث میں مقام‘‘ کے حوالے سے نہایت علمی و تحقیقی گفتگو فرمائی اور اپنے بیرون ملک قیام کے دوران کئے جانے والی علمی و تحقیقی امور کے متعلق بھی شرکاء کو آگاہ کیا۔ اس موضوع کو اس کی اہمیت کے پیش نظر قارئین کی دلچسپی کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے درس ’’طبقات الصوفیہ‘‘ سے الگ کرکے شائع کیا جارہا ہے۔ بلاشک و شبہ شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری کی شخصیت امت مسلمہ کے لئے مینارہ نور ہے اور ان کا ہر علمی و تحقیقی، فکری و اصلاحی کام امت مسلمہ کے لئے گنج گرانمایہ کی حیثیت رکھتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اس در سے ہماری نسبت کو قائم دائم رکھے۔ آمین (مرتب)
|
|
Read more...
|
|
چوتھی اور پانچویں صدی عیسوی دنیا کی تاریخ میں بدترین زمانہ تھا۔ دنیا کا کوئی مذہب اپنی اصل ہیت پر قائم نہ تھا۔ انبیاء کی تعلیمات مسخّ ہو چُکی تھیں۔ انسانوں کی عملی زندگیوں پر غفلت و گمراہی کی تیرہ تار گھٹائیں چھائی ہوئی تھیں۔انسانیت جاں بلب تھی اشرف المخلوقات کی اس زبوں حالی کو دیکھ کر رحمت حق کا بحرِ رحمت موجزن ہوا۔ اور دنیا کی اصلاح کے لیے مصلح اعظم کومبعوث فرمایااورآپ پر وہ کتاب نازل فرمائی۔ جو تمام علوم کا منبع اور معدن ہےاور جس سے بڑھ کر اخلاقی تعلیم دنیا کی کسی تعلیم میں موجود نہیں ہے۔
|
|
Read more...
|
|
|
جو شخص مذہب کا پیروکار ہے مگر تصوف پر عامل نہیں اس کی مثا ل اس شخص کی ہے جس نے حلوائی کی دوکان پر ساری عمر حلوہ بنایااورخود کبھی حلوہ نہ کھایا۔ تصوف کی بدولت انسان اس اللہ سے مکمل رابطہ پیدا کر سکتا ہے جسے وہ ا پنا معبود و مسجود یقین کرتا ہے۔ تصوف دل کی نگہبانی کا دوسرا نام ہے۔ کیونکہ انسان بظاہر جسم اور نفس کا نام ہے مگر در حقیقت دل کا نام ہے۔
|
|
Read more...
|
|
علمِ تصوف قرآن کی روشنی میں |
|
|
|
|
۔کمَاَ اَر’سَلنَا فِیکُم رسولاَ مِنکُم یتلُو عَلیکُم اٰیٰتِنا و یُزکِیکُمُ وَ یُعَلّمُکُم الکتٰبَ وَ الحکمۃَ وَ یعلّمُکُم مَّا لم تَکُونُو تَعلَمُونَ۔ ترجمہ۔ جس طرح تم میں ہم نے ایک رسول بھیجا ۔ تم ہی میں سے ہماری آیات تم کو پڑھ کر سناتے ہیں اور تم کو پاک کرتے ہیں اور تم کو کتا ب وحکمت کی تعلیم دیتے ہیں اور اس چیز کی بھی تم کو تعلیم دیتے ہیں جن کو تم نہیں جانتے تھے۔
|
|
Read more...
|
|
|
حضرت ابو ہریرۃ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اﷲ سے علم کی دو برتن حاصل کیے ایک تو میں نے تم میں تقسیم کر دیا ہے اور اگر دوسرا میں تم میں بانٹ دوں تو میرا حلقوم کاٹ دیا جائے۔ تفسیر مظہری میں ہے کو اس علم کی دوسری برتن سے مراد علم لدنی ہے ۔ حدیث عن الحسن قال العلم علمان فعلم فی القلب فذالک علم نا فع وعلم اللسان فذاک حجتہ اﷲ عزوجل علیٰ ابن آدم۔ حضرت شیخ الحق محدث دہلوی اس کی شرح کرتے ہوئے فرماتی ہیں کو علمِ نافع وہ علم ہے کہ اسکی رو شنی د ل میں پھیلتی ہے اور اس سے دل کے پردے ا ٹھتے ہیں اور علمِ زباں وہ علم ہے کہ تاثیر نہ کرے اور دل کو نورانی نہ کرے ۔ حضرت امام ربانی مجدد الف ثانی اس کی ایک مثال دیتے ہیں اور بیان فرماتے ہیں کہ خدا کا ہر جگہ حاظر،ناظر ہونا عقا ئد اسلام میں ہے ۔ عالم و جاہل خاص و عام اس پر اعتقاد رکھتے ہیں چونکہ عام لوگوں کو یہ علم تقلید اور استدلال سے حاصل ہوتا ہے اس لئے اس سے کوئی خاص حالت پیدا نہیں ہوتی ۔ اعمال اور افعا ل پر اس کا چنداں اثر نہیں پڑتا ۔ بخلاف اس کے تصوف میں اس مسئلے کا علم مشاہدہ و کشف سے ہوتا ہے۔ یعنی صوفی کو چاروں طرف خدا ہی خد ا نظر آتا ہے۔اور اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اس پر خشوع اور خضوع، ہیبت ، خوف اور ادب کی وہ کیفیت طاری ہوتی ہے جو کسی ظاہری علم سی حاصل نہیں ہو سکتی۔ الحدیث:۔ العلماء وارثہُ الانبیاء۔حضرت امام ربانی مجدد الف ثانی اپنی ایک مکتوب میں اس کی تشریح کرتے ہوئے فرماتے ہیں کو وہ علم جو انبیا سے باقی رہا ہے دو قسم کا ہے ایک علم احکام اور دوسرا علم اسرار (علم باطن) وارث انبیا وہ عالم ہے یا عا لم وارث وہ شخص ہے جس کو ان دونوں علو م سے حصہ حاصل ہو نہ کہ وہ شخص جس کو ایک ہی قسم کا علم نصیب ہو اور دوسر ا علم نصیب نہ ہو یہ بات وراثت کے منافی ہے۔
http://www.churasharif.com/index.php?option=com_content&view=article&id=12&Itemid=20 |
|
تصوف بزرگانِ دین کی نظر میں |
|
|
|
|
۔حضرت معروف کرخی نی یہ تعریف کی ہی۔ التصوف الا خْذ بالحقائق و الیاس مما فی ایدی الخلائق۔تصوف حقیقت کی معرفت حاصل کرنے اور ان چیزوں سے نا امید ہو جانے کا نام ہی جو مخلوقات کی ہا تھ میں ہے ۔ ۲۔حضرت جنید بغداد ی سی تصوف کی ماہیت کی باری میں دریافت کیا گیا تو انہوں نی فرمایا۔ان تکون مع اﷲ بلا علا قۃ (عوارف:۳۵)یہ کہ تو بغیر کسی نسبت و ظاہری تعلق کی ہر وقت اﷲ کی ساتھ رہے۔
|
|
Read more...
|
|
|
|
|
|
|
Page 3 of 5 |