سر زمینِ اولیاء چو رہ شریف
یہ مقدس بستی، اسرار لا ہوت کی یہ پر بہا ر وادی، مشا طہء حسنِ قدرت سے آراستہ سنگلا خ اور ہموار چٹا نوں کے ابھرے سینے پر ایک پُر سکون بہتی ندی کے کنارے خلو توںکی امین سر زمین کے افقِ مبین پر ما ہ ِ تاباں کی طرح جلو ہ نما ہے ۔جو راولپنڈی سے کو ہاٹ کی طرف ۲۰۱ کلو میٹر ہے ریلوے سٹیشن چو ُرہ شریف سے ڈیڑھ کلو میٹر کے فا صلے پر اولیا ء کا یہ مسکن زائیرین کے لئے تسکین قلب و نظر کا سامان مہیاء کر رہا ہے اور شہروں کے حسن و جمال اور با غوں کی دلفریب نظارے اس کی بے ساختگی پر قربان ہو رہے ہیں۔
|
|
Read more...
|
|
آستا نہ عالیہ کے موجودہ سجادہ نشین پیر سید اسداللہ شاہ غالب۱۲ جنوری ۱۹۷۲ء کو پیدا ہویے ابتدایی تعلیم کے بعد وہ اعلی مذہبی تعلیم کے حصول کے لیے عظیم مذہبی سکا لر پروفیسر ڈاکٹر محمد طاہر القادری صاحب کی قایم کردہ منھاج القرآن اسلامک یونیورسٹی میں داخل ہو گءے ۔ ۱۹۹۰ء سے ۱۹۹۸ء تک یہیں زیر تعلیم رہے اورممتاز اساتذہ سے دینی تعلیم حاصل کی ۱۹جون ۱۹۹۸ءکو اپنے والد گرامی کی وفات کے بعد مسند آراء نشین ہوءے۔ آستانہ عالیہ چورہ شریف سے جاری اس روحانی سلسلے کو جاری دکھتے ہوءےشب وروز دینی اور روحانی سر گرمیوں میں اپنی ذات کو وقف کر رکھا ہے۔ آپ کی تعلیم و تربیت میں امن و رواداری کا پیغام بہت نما یا ں ہو تا ہے۔آپ مسلما نو ں کو پیا ر و محبت اور امن سے رہنے کی تلقین کرتے ہیں۔ اسلام چونکہ امن و سلامتی اور محبت کا دین ہے اسلئے اسلام کا صحیح مفہو م سمجھنے کے لئے شدت پسندی اور عدم برداشت کے رویوں سے بچنا چا ہئے اور بین المذ اہب ہم آ ہنگی پرتو جہ دینی چا ہئے۔
http://www.churasharif.com/index.php?option=com_content&view=article&id=46&Itemid=13 |
|
مشائخ اسلام نے اپنی کڑی محنت و مجا ہدات کی پُر نور روشنی میں اسکا جواب مختلف ادوار کے عام فہم مخلوق خدا کے لیے ان کےمعیا ر عقل کے مطا بق واضح کیے ہیں۔اپنے دور کے مشہور تالیف اسلام اور شیخ اسلام نے حضرت ابراہیم بن حو لدرقی نے اپنی کتاب میں اس کے ایک سو سے زائد جوابات جمع کیے ہیں۔اختصاراََچند ایک نقل کیے جاتے ہیں۔
|
|
Read more...
|
نفس کی حقیقت
نفس کی حقیقت اور انفرادیت ہر ظاہری صاحبِ علم کومعلوم ھونا ممکن نہیں ہے۔نفس یا نفوس کے لفظی معنی ہیں۔دل،انا،شخصیت،دماغ۔نفس کی اصل پہچان صرف اللہ کے دوست یا اللہ کے مقرب ہی جان سکتے ہیں۔نفس کے دو اہم جزو ہیں۔
|
|
Read more...
|
صاحبزادہ مولانا محمد جمیل عباسی طاہری
بیعت
تصوف کی راہ میں بیعت بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔ اس کے بغیر کامل فائدے کا حصول ناممکن ہے۔ اور یہ قرآن حکیم و احادیث مبارکہ سے بھی ثابت ہے جس طرح قرآن مجید میں ارشاد ہے کہ ”ان الذین یبایعونک انما یبایعون اللہ“ ترجمہ: تحقیق وہ لوگ جو آپ کی (رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلم کی) بیعت کرتے ہیں در حقیقت وہ خدا تبارک و تعالیٰ کی بیعت کرتے ہیں۔
|
|
Read more...
|
|
|
شیخ خضری کا قول تصوف کے بارے میں |
|
|
|
|
حضرت داتا گنج بخش علی ہجویری نے اپنی شہرہ آفاق تصنیف کشف المحجوب میں شیخ خضری کا یہ قول نقل کیا ہے:
التصوف صفاء السر من کدورة المخالفة. ’’باطن کو مخالفت حق کی کدورت اور سیاہی سے پاک و صاف کردینے کا نام تصوف ہے‘‘۔
|
|
Read more...
|
|
فکر اسلامی میں تصوف کی اہمیت |
|
|
|
|
صوفیاء کے قائلین ہی نہیں منکرین بھی تسلیم کرنے پر مجبور ہیں کہ تصوف نے اسلامی معاشرے پر گہرے اثرات مرتب کیئے ہیں۔ اس کے زیر اثر کئی تخت نشینوں نے تخت و تاج تج دئیے اور سایہ ء فقر میں پناہ لی ۔ کتنے ہی کافر و ملحد اس کے انوار سے مستنیر ہو کر دائرہ اسلام میں داخل ہوئے ۔ اسی طر ح لا تعدا د کے مطیع و فرمانبردار بن گئے ۔ کتنے ہی گوشۂ گمنامی میں پڑے لوگ شہرت کی بلندیوں پر پہنچے ۔ لہذا تصو ف کی تاثیر سے انکار ممکن نہیں۔
|
|
Read more...
|
|
|
لفظ صوفی اور تصوف کی کئی طرح تشریح و توضیح کی گئی ہے لیکن یہاںا سی تعریف اکتفاء کیا جا رہا ہے جس کع مخدوم امت سید علی ابن عثمان الحسینی الہجویری المعروف داتا گنج بخش رحمتہ اللہ علیہ نے اپنی شہرہ آفاق تصنیف کشف المحجوب میں ترجیح دی ہے۔ فرماتے ہیں صفا کدورت کی ضد ہے چونکہ صوفیء اخلاق و عادات کو سنوار لیتے ہیں طبیعی عیوب مکی آلودگی سے آپ کو پاک رکھتے اس لئے انہیں صوفی کہاجا تاہے۔ یہ اسم عرفاء کیلئے علم ہے۔
|
|
Read more...
|
|
مجتہدین تصوف کے جداجدا اصولوں اور فروغی اختلاف کی وجہ سے تصوف کے مختلف سلاسل وجود میں آئے ہیں۔ جن میں بڑے سلاسل چار ہیں اور آج دنیا بھر میں انہی کا فیض ہے۔ سلسلہ قادریہ ، سلسلہ چشتیہ۔سلسلہ سہروردیہ ، سلسلہ رادریہ حضرت غوث اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا سلسلہ سہروردیہ حضرت شیخ شہاب الدین سہروردی رحمتہ اللہ علیہ کا اور سلسلہ نقشبند یہ حضرت غوث بہاؤ الدین نقشبند رحمتہ اللہ علیہ کا ہے۔
|
|
Read more...
|
|
|
|
|
|
|
Page 4 of 5 |