آراء
از: حضرت علامہ محمد الیاس عطار قادری رضوی بسم اللہ الرحمٰن الرحیم الحمد للہ رب العالمین ، والصلوٰہ والسلام علیک یا سیدی یا رسول اللہ وعلٰی الیک واصحابک یا حبیب اللہ سلسلہ عالیہ چشتیہ کے عظیم پیشوا حضرت سیدنا خواجہ غریب نواز حسن سنجری رحمۃ اللہ علیہ کو مدینہء منورہ کی حاضری پر مدینے کے تاجور، نبیوں کے سرور، حضور انور صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کی طرف سے معین الدین (یعنی دین کا مددگار) کا خطاب ملا اور تبلیغ دین کی خاطر اجمیر جانے کا حکم دیا گیا۔ |
| شيخ عبد القادر جيلاني رحمہ اللہ |
|
|
|
| Written by عقیدتمند |
| Tuesday, 08 September 2009 19:01 |
|
مظفر سلطان لونگی
شيخ عبد القادر جيلاني رحمہ اللہ 10 ربيع الاول سنہ 561 ھجري ۔ 13 فروري سنہ 1166 عيسوي نام و نسب آپ کا نام عبد القادر بن ابو صالح جنگي دوست بن عبد اللہ ہے۔ کہا جاتا ہے کہ آپ کا نسب حضرت حسن بن علي رضي اللہ عنہ سے ملتا ہے۔ آپ کا مشہور لقب محي الدين اور کنيت ابو عبد اللہ ہے۔ امام ذہبي رحمہ اللہ اور دوسرے مورخين نے آپ کو مزيد متعدد القاب سے ياد کيا ہے۔ مثلا امام ذہبي رحمہ اللہ لکھتے ہيں: الشيخ الامام العالم الزاھد العارف القدوہ شيخ الاسلام علم الاولياء محي الدين ابو محمد عبد القادر۔حافظ ابن رجب حنبلي رحمہ اللہ رقمطراز ہيں: شيخ العصر و قدوۃ العارفين و سلطان المشائخ، صاحب المقامات والکرامات والعلوم البتہ آج کل آپ کو پيران پير، غوث اعظم، غوث پاک، قطب الاقطاب جيسے القاب سے ياد کيا جاتا ہے جبکہ يہ القاب غير شرعي بلکہ بعض تو قطعا جائز نہيں ہيں۔ جيسے غوث ياغوث اعظم وغيرہ۔ پيدائش: شيخ عبد القادر جيلاني رحمہ اللہ سنہ 470 ھجري يا سنہ 471 ھجري ميں صوبہ گيلان کے بشتير نامي شہر ميں پيدا ہوئے۔آپ کا خاندان ايک علمي گھرانہ تھا، آپ کے نانا ابو عبد اللہ الصومعي مشہور صوفي بزرگ تھے حتي کہ آپ سبط ابي عبد اللہ الصومعي الزاھد کے نام سے جانے جاتے تھے۔ يعني ابو عبد اللہ الصومعي زاہد کے نواسے۔ آپ کا حليہ کتابوں ميں آپ کا حليہ کچھ اس طرح بيان ہوا ہے کہ ميانہ قد، گندمي رنگ، چوڑا سينہ دبلا پتلا بدن، بھري داڑھي، بھنويں ايک دوسرے سے ملي ہوئي اور بارعب چہرہ۔ تعليم و تربيت آپ کي ابتدائي تعليم سے متعلق مستند کتب تاريخ خاموش ہيں، بعض کتب سے اتنا پتہ چلتا ہے کہ آپ کا خاندان ايک علمي خاندان تھا، آپ کے شہر کے لوگ مذہب حنبلي پر قائم تھے اور آپ نے بغداد کے سفر سے پہلے قرآن مجيد وغيرہ کي تعليم حاصل کرلي تھي۔ بغداد کا سفر اس وقت بغداد جہاں مسلمانوں کا سياسي مرکز تھا وہيں ايک علمي و ثقافتي مرکز بھي تھا، اس لئے شيخ نے ابتدائے عمر ہي ميں بغداد کا قصد کيا۔ مورخين لکھتے ہيں کہ سنہ 481 ھجري ايام جواني ميں آپ بغداد وارد ہوئے اس وقت آپ کي عمر سترہ يا اٹھارہ سال تھي۔ بغداد ميں آپ نے وہاں کے نامور اہل علم سے اپني علمي پياس بجھائي، اساتذہ ميں سے بعض کے نام يہ ہيں: اساتذئے حديث آپ نے علم حديث ابو غالب محمد بن الحسن الباقلاني متوفي سنہ 500ھجري، جعفر بن احمد السراج متوفي سنہ 500 ھجري، ابو سعد محمد بن عبد الکريم بن حشيش بغدادي متوفي سنہ 502 ھجري اور احمد بن المظفربن حسن بن سوسن التمار متوفي سنہ 503 ھجري جيسے ائمہ فن سے ليا۔ اساتذئے فقہ و اصول علم فقہ و اصول ميں آپ کے بعض مشہور اساتذہ کے نام درج ذيل ہيں: ابوسعد المخرمي حنبلي متوفي سنہ 513 ھجري، ابوالخطاب الکلوباذي حنبلي متوفي سنہ 510 ھجري، اور ابو الوفا ابن عقيل حنبلي سنہ 513 ھجري اس وقت بغداد ميں يہ تينوں حضرات فقہِ حنبلي کے اساطين فن سمجھے جاتے تھے۔ حتي کہ مذہب حنبلي کے اصول و فروع اور علم خلافيات ميں پوري دست رس حاصل کي بلکہ اپنے تمام ہم عصروں پر سبقت لے گئے۔ اور اپنے اساتذہ کے بعد آپ ہي بغداد ميں فقہ حنبلي کے مرجع ٹھرے۔ ادب وقواعد کے اساتذہ علم ادب و لغت ميں آپ کے خاص اساتذہ ميں خطيب تبريزي حامد اللہ متوفي سنہ 503 ھجري، جيسے اساتذہ فن کا نام ملتا ہے۔ علم سلوک و تصوف علوم ظاہريہ کے ساتھ ساتھ آپ کي توجہ علم باطن کي طرف بھي تھي جس کي ابتدائي تعليم اپنے فقہ کے استاذ ابو سعد المخرمي سے لي، نيز اس وقت بغداد ميں مشہور صوفي حماد بن مسلم الدباس متوفي سنہ 525 ھجري، کا خوب چرچا تھا اس لئے شيخ عبد القادر جيلاني رحمہ اللہ نے علم سلوک و تصوف کے لئے ان کے سامنے بھي زانوئے تلمذ تہ کيا اور سالوں سال ان کي مجلس ميں شريک ہوتے رہے خاص کر جمعہ کے دن ان کي مجلس ميں ضرور حاضر ہوا کرتے تھے۔ خلاصہ يہ کہ حضرت شيخ عبد القادر جيلاني رحمہ اللہ کو طلب علم کے لئے بہت سے مصائب اور دشواريوں سے دوچار ہونا پڑا ليکن اللہ تعالي کي خصوصي مدد شامل حال رہي اس لئے ان تمام مصائب کو برداشت کيا اور طلب علم کے مراحل کو بحسن و خوبي طے کرليا۔ تذکرہ نگار لکھتے ہيں کہ آپ تقريبا تيس سے پينتيس سال تک طلب علم ميں لگے رہے۔ تدريس اور تزکيہ نفس کے لئے مسند نشيني علم ظاہر و باطن کي تکميل کے بعد آپ کا خيال ہوا کہ آبادي کو چھوڑ کر کہيں جنگل و صحراء ميں چلےجائيں اور وہاں رہ کر عبادت و رياضت ميں مشغول رہيں ،کيونکہ اس وقت بغداد سخت سياسي کشمکش کا شکار تھا ،سلجوقي سلاطين عباسي سلطنت کو ختم کرنا چاہتے تھے ، عام لوگوں کي توجہ ماديت کي طرف بڑھتي جارہي تھي اہل علم کا ايک بڑا طبقہ حاکموں اور امراء کے يہاں کاسہ ليسي ميں مشغول نظر آرہا تھا۔ عام لوگ علم دين اور اخلاص سے دور امراء و حکام کا تقرب حاصل کرنے ميں لگے ہوئے تھے، علم دين کے حصول کا مقصد دنيا حاصل کرنا ہو گيا تھا شيخ عبد القادر جيلاني ان تمام حالات سے بہت ہي کبيدہ خاطر تھے اس لئے تعليم سے فراغت کے بعد ارادہ کيا کہ گوشہ نشيني کي زندگي بسر کريں۔ چنانچہ ان کے شاگرد عبد اللہ بن ابو الحسن الجبائي رحمہ اللہ بيان کرتے ہيں کہ مجھ سے شيخ عبد القادر جيلاني نے بيان فرمايا کہ ميري خواہش تھي کہ ميں صحراؤں اور جنگلوں ميں نکل جاؤں اور وہيں رہ کر عبادت و رياضت ميں مشغول رہوں نہ مخلوق مجھے ديکھے اور نہ ميں لوگوں کو ديکھوں، ليکن اللہ تعالي کو ميرے ذريعہ اپنے بندوں کا نفع منظور تھا چنانچہ ميرے ہاتھ پر پچاس ہزار سے زائد يہودي اور عيسائي مسلمان ہو چکے ہيں اور عياروں اور جرائم پيشہ لوگوں ميں سے ايک لاکھ سے زائد توبہ کرچکے ہيں يہ اللہ تعالي کي بڑي نعمت ہے۔ خلاصہ يہ کہ اللہ تبارک و تعالي کي تاييد غيبي رہي کہ حضرت شيخ رحمہ اللہ نے رہبانيت و صحرا نوردي کا خيال ترک کرکے علم کے پياسوں کو سيراب کرنے اور مردہ دلوں کي مسيحائي کے لَئے تيار ہوئے اور اپنے استاد خاص ابو سعد المخرمي رحمہ اللہ بنائے ہوئے مدرسے ميں درس و تدريس کے لئے سنہ 521 ھجري ميں مسند نشين ہوئے۔ آپ کا مسند درس و ارشاد پر بيٹھنا تھا کہ لوگوں کا آپ کي طرف ہجوم ہونا شروع ہوگيا علم ظاہر و باطن کے پياسے آپ کے پاس جوق در جوق حاضر ہونے لگے اللہ تعالي نے لوگوں کے دلوں ميں آپ کي ايسي مقبوليت ڈالي کہ سارا بغداد آپ کے مواعظ پر ٹوٹ پڑا اور ايسا ہجوم بڑھا کہ بہت جلد مدرسہ ميں جگہ تنگ پڑگئي اور لوگوں نے مدرسہ کي توسيع کي ضرورت محسوس کي، مشہور امام فقہ حافظ موفق الدين ابن قدامہ بيان کرتے ہيں کہ ميں نے کسي شخص کو دين کي وجہ سے آپ سے بڑھ کر وجہ تعظيم نہيں ديکھا۔ خلاصہ يہ کہ عوام و خواص دونوں نے بڑھ چڑھ کر مدرسہ کي توسيع ميں حصہ ليا، جس سے جو کچھ بھي ہو سکتا کم زيادہ لا کر شيخ کي خدمت ميں پيش کرديتا۔ اس مدرسہ ميں شيخ حديث و فقہ، اصول و عقيدہ اور علم سلوک کا درس ديا کرتے تھے ، کثير تعداد ميں لوگ شريک ہوتے حتي کہ بعض لوگوں نے مبالغہ کے طور پر يہاں تک کہہ ديا ہے کہ آپ کے درس ميں 75 ہزار کي تعداد ہوتي تھي البتہ يہ حقيقت ہے کہ آپ کے پاس عالم و جاہل، محدث و فقيہ اور اصولي و نحوي سبھي قسم کے لوگ حاضر ہوتے تھے۔ حضرت شيخ عبد القادر کي زندگي ہي ميں آپ کے فتووں اور علم فقہ ميں باريک بيني کي شہرت بغداد اور اس کے اطراف اکناف ميں پھيل گئي اہل علم آپ کے فتووں کو سنتے اور آپ کي علمي باريک بيني پر تعجب کرتے اور کہتے کہ سبحان اللہ کہ ان کے اوپر اللہ کا يہ فضل ہوا ہے ۔ وفات اس طرح شيخ عبد القادر رحمہ اللہ تقريبا چاليس سال تک علم کے پياسوں کو سيراب کرکے، اپنے ظاہري و باطني کمالات سے ايک عالم کو مستفيد کرکے، بہت سے مردہ دلوں کو زندگي بخش کرکے عالم آخرت کي طرف کوچ کرگئے۔ چنانچہ دس ربيع الاول سنہ 561 ھجري بروز ہفتہ دنيا کو روشن کرنے والا يہ چراغ خود بجھ گيا۔ اس وقت ان کي عمر 90 سال کے قريب تھي، وفات کے وقت اپنے بيٹے عبد الوہاب کو آپکي آخري وصيت يہ تھي کہ تم ہميشہ اللہ تعالي سے ڈرتے رہنا اس کے علاوہ کسي اور سے نہ ڈرنا اور نہ اس کے سوا کسي سے اميد رکھنااپني تمام ضروريات صرف اسي کے حوالے کرنا اسي سے طلب کرنا اس کے علاوہ کسي اور پر اعتماد و بھروسہ نہ رکھنا توحيد کو لازم پکڑنا کيونکہ توحيد ہر کام کي جامع ہے۔ زندگي کے آخري لمحات کا منظر ان کے صاحبزادے عبد الجبار بيان کرتے ہيں کہ جب والد کا مرض بڑھ گيا اور تکليف زيادہ محسوس ہونے لگي تو ميں نے پوچھا کہ آپ کے جسم ميں کہاں تکليف ہے۔ کہنے لگے ميرے تمام اعضا مجھے تکليف دے رہے ہيں مگر ميرے دل کو کوئي تکليف نہيں ہے اللہ تعالي کے ساتھ اس کا تعلق صحيح ہے ، پھر جب آخري وقت آگيا تو آپ فرمانے لگے ميں اس اللہ سے مدد چاہتا ہوں جس کے سوا کوئي معبود نہيں وہ پاک و برتر ہے، زندہ ہے اور اس پر موت کے طار ي ہونے کا انديشہ نہيں ہے وہ پاک ہے وہ ايسي ذات ہے جس نے اپني قدرت سے قوت ظاہر کي اور ہميں موت دے کر بندوں پر اپنا غلبہ دکھايا ، اللہ کے سوا کوئي معبود نہيں ، محمد صلي اللہ عليہ وسلم اللہ کے رسول ہيں ، پھر تين بار اللہ، اللہ ، اللہ فرمايا اس کے ساتھ آواز غائب ہوگئي آپ کي زبان تالو سے چپک گئ اور روح جسم سے رخصت ہوگئ ۔ رحمہ اللہ و رضي عنہ۔ آپ کي وفات ہفتہ کے دن شام کو ہوي اور اسي رات تغسيل و تکفين کے بعد اسي مدرسہ کے ايک گوشے ميں نماز جنازہ کے بعد دفن کرديا گيا۔ آپ کي چار بيوياں تھيں جن سے آپ کي انچاس اولاد ہوئيں، ستائيس لڑکے اور باقي لڑکياں ، ان ميں سے بعض لڑکے زيادہ مشہور ہيں جيسے شيخ عبد الوہاب اور شيخ عبد الرزاق رحمہم اللہ اجمعين۔ شيخ عبد القادر جيلاني کي شخصيت:۔ دنيا کي کسي بھي بڑي و نادر شخصيت کي طرح شيخ عبد القادر جيلاني رحمہ اللہ کي شخصيت بھي متنازع رہي ہے کچھ لوگوں نے آپ کے بارے ميں اسقدر غلو سے کام ليا کہ انہيں الوہيت اور ربوبيت کے مقام پر پہنچاديا۔ ان سے مراديں مانگنے لگے، ان سےاپني بگڑي بنوانے لگے اور اللہ تعالي کو چھوڑ کر انہيں کو نفع و نقصان کے لئے پکارنے لگے حتي کہ اس جماعت کے لوگوں نے يہاں تک کہہ ديا کہ : بادشاہ ہر دو عالم شيخ عبد القادر ہست {دونوں عالم کے بادشاہ شيخ عبد القادر ہيں} سرور اولاد آدم شيخ عبد القادر ہست {اولاد آدم کے سردار شيخ عبد القادر ہيں} آفتاب و ماہ تاب و عرش کرسي و قلم {سورج اور چاند ، عرش کرسي اور قلم} زير پائے شيخ عبد القادر ہست {شيخ عبد القادر کے پير کے نيچے ہے}۔ بدقسمتي سے آج يہ اشعار شيخ عبد القادر جيلاني رحمہ اللہ کے مزار پر لکھے ہوئے ہيں۔ [الشيخ عبد القادر جيلاني ص 4، سعيد مسفر]۔ کسي اردو شاعر نے يہاں تک کہہ ديا: بلاد اللہ ملکي تحت حکمي سے ہے يہ ظاہر کہ عالم ميں ہر ايک شئ پر قبضہ غوث اعظم کا گئے اک وقت ميں ستر مريدوں کے يہاں آقا سمجھ ميں آنہيں سکتا کرشمہ غوث اعظم کا يہ پورا قصيدہ جو تفسير احسن البيان کے ضميمہ پر موجود ہے اسے پڑھيں اور عبرت حاصل کريں، نيز ديکھيں کہ اس شاعر نے اللہ کے لئے کيا چيز باقي چھوڑي ہے، اس قصيدہ کو پڑھ کر آپ محسوس کريں گے کہ يہ ايسا شرک ہے جس کا ارتکاب عرب کے جاہلي مشرکين نے بھي نہيں کيا تھا۔ اس جماعت نے غلو ميں حضرت شيخ کي طرف ايسے اقوال و کرامتيں اور تصرفات منسوب کئے ہيں جو حد بيان سے باہر ہيں ،کہيں ملک الموت سے اپنے مريد کي روح چھين لے رہے ہيں تو کہيں اللہ تعالي سے زبردستي ايک ايسے شخص کو سات بيٹے دلوا رہے ہيں جس کي تقدير ميں اللہ تعالي نے ايک بيٹا بھي نہيں رکھا تھا حتي کہ کہيں انکے غوث پاک صاحب ميدان محشر ميں اپنے مريدوں کو اللہ تعالي کي مرضي کے خلاف جہنم سے نکال کر جنت ميں ڈال رہے ہيں وغيرہ وغيرہ۔ شيخ عبد القادر جيلاني سے متعلق ايک اور جماعت ہے جو شيخ کي بزرگي، ولايت اور ان کے فضائل کا اقرار ہي نہيں کرتي بلکہ ان کي وہ باتيں جس ميں تاويل کي بھي گنجائش ہے اس ميں شيخ کو متہم کرتي ہے، کہا جاتا ہے کہ حافظ ابن الجوزي رحمہ اللہ نے اس جماعت کي ترديد ميں ايک مستقل کتاب بھي لکھي ہے ۔ آج کتنے لوگ ہيں جو اپنے کو مسلک سلف کا حامل سجمھتے ہيں حالانکہ وہ حضرات اہل بدعت کي مخالفت ميں شيخ کا نام لينا، انکي کتابيں پڑھنا اور ان کے بارےميں کچھ معلومات حاصل کرنا بھي گوارا نہيں کرتے۔ تيسري جماعت اہل سنت و الجماعت کي ہے جو شيخ عبد القادر جيلاني کو اپنے اماموں ميں سے ايک امام تسليم کرتي ہے، انہيں امت محمديہ کا ايک بڑا عالم مانتي ہے، اعمال قلوب اور اصلاح باطن ميں انہيں اپنے وقت کا مجدد تسليم کرتي ہے، ان کي سچي کرامات کا اعتراف کرتي ہے، ان کے بارے ميں غلو سے کام نہيں ليتي اور نہ ہي ان کي حق تلفي کرتي ہے بلکہ افراط و تفريط کي درمياني راہ پر رہ کر شيخ عبد القادر جيلاني کو احترام و تقدير کي نظر سے ديکھتي ہے البتہ انہيں عام اماموں، عالموں، فقيہوں اور بزرگوں کي طرح ايک انسان ليکن عام انسانوں سے بہت اونچا تسليم کرنے کے باوجود خطا ونسيان سے بري نہيں سمجھتي۔ مثال کے طور پر امام ذہبي رحمہ اللہ ان کے تعارف ميں لکھتے ہيں: ''الشيخ الامام العالم الزاھد العارف القدوۃ شيخ الاسلام علم الاولياء محي الدين ۔۔۔شيخ بغداد'' ان تعريفي القاب کے ساتھ ساتھ ان کے تذکرہ کے آخر ميں لکھتے ہيں: خلاصہ يہ کہ شيخ عبدا لقادر بڑي شان والے ہيں اسي کے ساتھ ساتھ ان کے بعض اقوال و دعوے قابل گرفت ہيں۔ حاضري اللہ کے پاس ہے۔ ان کي طرف منسوب بعض اقوال ان پر الزام تراشي ہے۔ امام ذہبي کے ہم عصر ايک اور امام حافظ ابن کثير رحمہ اللہ لکھتے ہيں: ان ميں کافي زہد تھا۔۔۔ وہ صالح اور متقي تھے، انہوں غنيۃ الطالبين اور فتوح الغيب جيسي کتابيں لکھيں ان ميں بہت سي باتيں بڑي عمدہ ہيں البتہ ان ميں بہت سي ضعيف اور موضوع حديثوں کو بھر ديا ہے، خلاصہ يہ کہ وہ مشايخ کے سردار تھے۔ حاصل يہ کہ اگر اس قسم کے اقوال نقل کئے جائيں تو ان کے لئے مکمل دفتر کي ضرورت ہے مقصد صرف يہ ہے کہ اہل سنت و جماعت نے نہ شيخ کو ان کے حق سے اوپر اٹھا کر ان کے بارے ميں غلو سے کام ليا نہ انہيں معصوم عن الخطا سمجھا، نہ انہيں قادر مطلق اور مختار کل تسليم کرکے شرک کے مرتکب ہوئے اور نہ ہي ان کي حق تلفي کي کہ انہيں امام وقت، ولي اللہ اور صاحب کرامت بزرگ وغيرہ ماننے سے انکار کرديا۔
http://www.akhbaroafkar.com/detail.asp?aid=1792
|
| Last Updated on Tuesday, 08 September 2009 19:08 |



