آراء
از: حضرت علامہ محمد الیاس عطار قادری رضوی بسم اللہ الرحمٰن الرحیم الحمد للہ رب العالمین ، والصلوٰہ والسلام علیک یا سیدی یا رسول اللہ وعلٰی الیک واصحابک یا حبیب اللہ سلسلہ عالیہ چشتیہ کے عظیم پیشوا حضرت سیدنا خواجہ غریب نواز حسن سنجری رحمۃ اللہ علیہ کو مدینہء منورہ کی حاضری پر مدینے کے تاجور، نبیوں کے سرور، حضور انور صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کی طرف سے معین الدین (یعنی دین کا مددگار) کا خطاب ملا اور تبلیغ دین کی خاطر اجمیر جانے کا حکم دیا گیا۔ |
| حقيقتِ تقویٰ ، باب ۲ |
|
|
|
| Written by عقیدتمند |
| Wednesday, 09 September 2009 14:11 |
|
باب دوم تشکيل تقویٰ کی بنياديں ايمان کی مضبوطی اور استحکام تعميرٍ سيرت ميں ہر روز نئی آن اور نئی شان پيدا کرتے ہيں۔اگريہ تسليم کرليا جائے کہ قربٍ الٰہی اور اتقاء لازم وملزوم ہيں تو پھر يہ سمجھنے ميں دشواری نہيں ہوگی کہ قربٍ خداوندی کا پہلا زينہ ہی استحکام ايمان ہے۔ايمان جتنا مضبوط ہوگا کردار اتنا ہی اعلٰی ہو گا۔ايمان کی کمزوری سيرت و کردار کو کمزور کرتی ہے۔ يہی وجہ ہے کہ قرآن نے جب بھی مردٍ مومن کو کسی عمل اور جہاد کے لئے تيار ہو نے کی دعوت دی۔"ايمان"کا ذکر ضرور کيا۔وہ تجارت عظيم جس کو"عذابُ اليم"(دردناک عذاب) سے چھٹکا ر ے کا با عث قرا ر د يا گيا۔اس ميں بھی سب سے پہلے ايمان باللہ اور ايمان باالرسول (صلی اللہ عليہ وسلم)کا ہی ذکر کيا گيا۔ تُوْ مٍنُوْنَ باٍللہٍ وَرَسُوْ لٍہٰ وَ تُجَا ھِدُوْنَ فِیْ سَبٍيْلٍ اللہٍ بٍاَمْوَالٍکُمْ وَ اَنْفُسِکُمْ۔( الصف : ١١) " اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ عليہ وسلم پر ايمان لاؤ اور خدا کے راستے ميں اپنے مال اور جان کے ساتھ جہاد کرو"۔ " تقویٰ " کا ترجمہ اگر عام فہم الفاظ ميں کيا جائے تو يہ کہا جا سکتا ہے کہ تقویٰ "اسلامی کردار" کا دوسر انام ہے۔ياد رہے کہ تعميرٍ کردار کے لئے قرآن کثرت عبادت کا ايک نسخہ بھی تجويز کرتا ہے ۔ مثلاً بے حيائی سے رُ کنے کے لئے يا صبر کی صفت پيدا کرنے کے لئے نماز کا پڑھنا تجويز کيا گيا۔ انسانی طبا ئع ميں رَچ بَس جانے والی مذموم حرکتيں کثرتِ زُہد ہی سے عا د ات ِحسنہ سے بدلتی ہيں۔ پروردگار عالمين ايک جگہ ارشاد فرماتے ہيں:۔ ٰيآَ يّھُاَ النَّاسُ اعْبُدُوْارَبَّکُمُ الّذَیِْ خَلَقَکُمْ وَالَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِکُمْ لَعَلَّکُمْ تَتَّقُوْنَ ہ (البقرہ : ٢٠ ) " اے لوگو! اپنے رب کی عبادت کرو جس نے تمہيں اور تم سے پہلے لوگوں کو پيدا فرما يا ،تا کہ تم متقی بن جاؤ "۔ رمضان المبارک کے روزوں کا ملسفہ بھی يہی بيان فرمايا :۔ يٰآَ يّھُاَ الَّذِ يْنَ اٰمَنُوْا کُتِبَ عَلَيْکُمُ الصِّيَامُ کَماَ کُتِبَ عَلیَ الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِکُمْ لَعَلَّکُمْ تَتَّقُوْنَ ہ (البقرہ : ١٢٣ ) " اے اہل ايمان ! تم پر پہلے لوگوں کی طرح روزے فرض کر ديئے گئے تا کہ تم متقی بن جاؤ۔" ايمان کی حرارت،محبت کی گرمی اور عشق کی تپش شيخٍ کامل کی وجہ ہی سے حاصل ہو سکتی ہے ۔قرآنٍ حکيم بھی تعمير سيرت ، پختگئی کردار ، تشکيل تقویٰ اور آنکھوں سے غفلت کی پٹياں دُور کرنے کے لئے "وسيلہ" ضروری قرار ديتا ہے۔ يٰآَ يّھُاَ الَّذِ يْنَ اٰمَنُوْااتَّقُوااللہَ وَابْتَغُوْ آاِلَيْہٍ الْوَ سِيْلَتہ وَجَاھِدُوْا فِیْ سَبِيْلِہٰ لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُوْنَ ہ ( المائدہ : ٣٥ ) " اے ايمان والو! اللہ سے ڈرو اور اس تک پہنچنے کا وسيلہ تلاش کرو اور اس کی راہ ميں جہاد کرو تاکہ تم فلاح پاؤ "۔ آيت ميں وسيلہ سے مراد جہاں کتاب وسنت ہے وہاں پيرومرشد کی توجہ اس کی تلاش اور بيعيت ہے شاہ ولی اللہ اور مولوی اسماعيل دہلوی نے اس سے يہ مراد لی ہے ۔ ( قول جميل،صراطٍ مستقيم بحوالہ ضياالقرآن ) ڈاکڑعلامہ اقبال عليہ الرحمتہ شيخ کامل کی توجہ کےاثرات ايک جگہ اسطرح بيان کرتے ہيں :۔ دم عا ر ف نسيم صبح دم ہے اسی سے ريشہ معنی ميں نم ہے اگر کوئی شعيب آئے ميسر شبانی سے کليمی دو قدم ہے تقویٰ اسلام کی روح ہے اور اسلام دينِ فطرت ہے۔اس کی حقانيت لامحا لہ ہر اس ذہن کو تسليم کرنی پڑتی ہے جو تعصب کی پٹی اتار کر صيح خطوط پر غوروفکر کرے۔قرآن جو ايک الہامی کتاب ہے وہ صرف اپنے قاری کو تلاوت ہی کی دعوت نہيں ديتی بلکہ فکر اور تدبر کرنے کی تعليم بھی ديتی ہے۔اس کی وجہ يہ ہے کہ غوروفکر سے انسانی ضمير زندہ ہوتا ہے اور حقائق کو تسليم کرنا سيکھتا ہے جب قلب و جگر اور دل و دماغ کسی بات کو تسليم کر ليتے ہيں تواس کے تقاضے پورے کرنے پھر مشکل نہيں رہتے۔ تقویٰ چونکہ اسلام کا تقاضا ہے،اس لئے اس کی تشکيل بھی غوروفکر کی مرہون منت ہے۔ قرآن کی دعوت ِفکر کو تين حصوں ميں تقسيم کيا جا سکتا ہے :۔ ١ ۔ کتاب ٢ ۔ انفس ٣ ۔ آفاق ١ ۔ وَلقَدْ صَرَّ نْناَ فِیْ ھٰذَاالْقُرْاٰنِ لِيَذَّ کَّرُوْ ط ( بنی اسرائيل : ٤١) "بلا شبہ ہم نے قرآن ميں طرح طرح سے سمجھا يا تاکہ نصيحت حاصل کريں " ٢ ۔ ھُوَ الَّذِیْ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآ ٔ مَآ ٕ لَّکُمْ مِنْہُ شَرَابُ وَّ مِنْہُ شَجَرُ فِيْہِ تُسِْيمُوْنَ ہ يُنْبِتُ لَکُمْ بِہِ الزَّرْعَ وَالزَّ يْتُوْنَ وَالنَّخِيْلَ وَا ْلاَ عْنَا بَ وَمِنْ کُِلّ الثَّمَرٰتِ ط اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ َلاٰيَتہ ً لِّقَوْمٍ يَّتَفَکَّرُوْنَ ہ ( النحل : ١١،١٠ ) " وہ ذات جس نے تمہارے لئے آسمان سے پينے کے لئے پانی اتارا تم اس سے (اُگنے والے)درختوں سے چراتے بھی ہو(وہ ذات)جو تمہارے لئے اس سے کھيتی اگاتا ہے۔زيتون،کھجور،انگور اور ہر قسم کے پھل۔ بلا شک اس ميں فکر کرنے والی قوم کے لئے نشانی ہے ۔" ٣ ۔ قُلْ مَنْ يَّرْ زُقُکُمْ مِنَ السَّمَآ ٕ وَالاَْ رْمِن اَمَّنْ يَّمْلِکُ السَّمْعَ وَالاَْ بْصَارَ وَمَنْ يُّخْرِجُ الْحَیَّ مِنَ الْمَِيّتَ مِنَ الْحَّیِ وَمِنْ يُّدَ بّرُِ الاَْ مْرَط فَسَيَقُوْ لُوْنَ اللہ ج فَقُلْ اَفَلاَ تَتَّقُوْنَ ہ (يونس : ٣١ ) "ان سے پوچھو تمہيں زمين اور آسمان سے رزق کون ديتا ہے۔سماعت اور بصارت کی قوتوں کا مالک کون ہے۔بے جان سے جاندار کو اور جاندار سے بے جان کو کون نکالتا ہے۔اس نظامِ کائنات کی تدبيرکون کر رہا ہے۔وہ ضرور کہيں گے کہ اللہ پس کہو تم کيوں تقویٰ اختيار نہيں کرتے ۔" ٤ ۔ سورت غاشيہ ميں ايک مقام پر غورو فکر کی دعوت اس انداز ميں دی گئی اَفَلاَ يَنْظُرُوْنَ اِلیَ الاِْ بِلِ کَيْفَ خُلِقَتْہ وَاِلیَ السَّمَٕ کَيْفَ رُفِعَتْ ہ وَاِلیَ الْجِبَال ِ کَيْفَ نُصِبَتْ ہ وَاِلیَ الاَْ رْضِ کَيْفَ سُطِحَتْ ہ ( انعا شيہ : ١٧ تا ٢٠ ) " کيا وہ اونٹوں کو نہيں ديکھتے کيونکر پيداہوئے اور آسمان کو کہ کيسے بلند کيا گيا۔پہاڑوں کی طرف کہ کس طرح گاڑے گئے ہيں اور زمين کو کہ کس طرح بچھائی گئی ہے۔" تقویٰ کا تعلق چونکہ شريعت سے ہے۔اس لئے ہر متقی اور پرہيزگار شخص کے لئے ضروری ہے کہ وہ شريعت کا مکمل علم رکھتا ہو يا اگر زيادہ نہيں تو کم ازکم جائز وناجائز اور حلال و حرام کا علم رکھنا تو ازحد ضروری ہے۔ تقویٰ کا بلند ترين مقام عرفان ربّ ہے جسے فقر سے بھی تعبير کيا جاتا ہے حضرت باہوُ عليہ الرحمتہ اس کے بارے ميں فر ماتے ہيں۔ علموں باہج جوکرے فقيری کافر مرے ديوانہ ہوُ خداوندکريم امتِ مصطفٰے صلی اللہ عليہ وسلم کو ہزارہا ان کے فر يب کاروں سے بچائے جو طريقت کو شريعت سے الگ کر کے لوگوں کو گمراہ کر رہے ہيں حالانکہ حقيقت يہ ہے ۔ اگر بہ اونر سيدی تمام بولہيبت اتباع رسول صلی اللہ عليہ وسلم کے علاوہ جو بھی طريقہ ہے خواہ وہ کتنا ہی دلکش کيوں نہ ہو نفس کی کرشمہ سازی کے سوا کچھ نہيں ۔ " تقویٰ "پيدا کرنے کے لئے خوفِ خدا کا ہونا بھی اشدضروری ہے ليکن خوف کو اتنا نہ بڑھايا جائے کہ اميد ہی ختم ہو کر رہ جائے۔ايک حديث کے مطابق ايمان،خوف اور اميد کے درميان ہے ۔حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا ايک مشہور قول ہے کہ :۔ "اگر اللہ تعالٰی کی طرف سے يہ اعلان کيا جائے کہ جنت ميں صرف ايک ہی شخص داخل کيا جائے گا توميں کہوں گا کہ وہ شخص ميں ہی ہوں ۔ليکن اگر يہ اعلان ہو جائے کہ دوزخ ميں صرف ايک ہی آدمی داخل ہو گا تومجھے انديشہ ہو گا کہ وہ آدمی کہيں ميں ہی نہ ہوں۔" خوفِ خدا کےلئے آخرت،موت اور قبر کافکر ضروری ہے۔ايک شخص کو ميں نے ديکھا کہ مرغ ذبح کرتے ہوئے رو رہا تھا اور ساتھ ہی يہ کہہ رہا تھا کہ بے زبان اور غير مکلف چيز مرتے ہوئے اگر اتنی تکليف ميں مبتلا ہے تو گناہ گار انسانوں کا کيا حال ہو گا۔ سرکارِ دوعالم صلی اللہ عليہ وسلم کے بارے ميں ايک روايت ہے کہ جب آسمان پر بادل چھا جاتے تو آپ کا چہرہ متغير ہو جاتا اور آپ خوفِ خدا سے کبھی گھر سے باہرآتےاورکبھی اندر جاتے۔جب بارش ختم ہوجاتی توآپ مسرورہوجاتے۔ فطرتِ ا نسانی ميں يہ بات د اخل ہے جب ا سے کسی بات کا خوف ہو تو عمل کی قو ت اس ميں تيز سے تيز تر ہو جاتی ہے۔البتہ خوف کی توعتيتں بدلتی رہتی ہيں۔ اسلام بھی اپنے ماننے والوں کو ايک غائب ہستی کی باز پُرس سے ڈرنے کی تلقين کرتا ہے۔اس خوف کا اثر يہ ہے کہ کسی پوليس يا محتسب کی غير موجودگی ميں بھی انسان ايسا کام کرنے سے رک جاتا ہے جس سے اسکےرب کی نافرمانی ہوتی ہواورخلق خدا کوضرر کاانديشہ ہو۔ ايک حديث ميں سرکار ِدوعالم صلی اللہ عليہ وآلہ وسلم ارشاد فرماتے ہيں:۔ "اللہ تعالی کو ان آنسووں سے پيار ہے جو خوفِ الٰہی سے جاری ہوتے ہيں"۔(مشکوۃ شريف باب الجہاد) ايک بزرگ نے ايک روتے ہوئے لڑکے سے رونے کا سبب دريافت کيا تو اس نے جواب دياکہ اللہ تعاليٰ سے ڈر کر رورہا ہوں ۔انہوں نے پوچھا ،خوف کا سبب کيا ہے؟تو اس نے کہا کہ کتاب حکيم ميں ارشادِ رب العزت ہے :۔ فَاتَّقُواالنَّارَ الَّتِیْ وَقُوْدُھَا النَّاسُ وَالْحِجَارَة ہ ( البقرہ : ٢٤ ) " ڈرواُس آگ سے جس کا ايندھن (گناہگار) لوگ اور پتھر ہيں " :۔ ميں سوچتا ہوں کہ ميری ماں آگ جلاتی ہے تو چولہے ميں بڑی لکڑيوں کو آگ لگانے کے لئے نيچے چھوٹی چھوٹی لکڑ ياں رکھتی ہے تاکہ آسانی سے آگ روشن ہو جائے۔اگر خداوند کريم نے بھی جہنم ميں بڑے بڑے نا فرما نوں کو آگ ميں ڈالا تو مجھ جيسے چھوٹے چھوٹے گناہگاروں کو بھی کہيں آگ ميں نہ ڈال ديا جائے۔ مولانا رُومی کا ايک شعر ہے ۔ ہر کجا آبِ رواں غنچہ بود ہر کجا اشکِ رواں رحمت بود جہاں پانی چلتا ہے وہاں باغات ہوتے ہيں اور جہاں آنسوجاری ہوں وہاں خدا کی رحمت ہوتی ہے۔ حضرت صديق اکبر رضی اللہ تعالٰی عنہ فرمايا کرتے تھے کہ خوفِ الٰہی سے رويا کرو اگر رونا نہ آئے تو رونے والی شکل ہی بنا ليا کرو ۔ خوفِ خدا کے بارے ميں قرآن حکيم ميں ربِ ذوالکمال ايک جگہ ادشاد فرماتے ہيں :۔ وَاَمَّا مَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّہٰ وَنَھیَ النَّفْسَ عَنِ الْھَوٰی ہ فَاِنَّ الْجَنّتہَ ھِیَ المَاوٰی ہط ( الَّنز عٰت : ٤٠،٤١ ) " اور جس نے اپنے رب کے سامنے حاضری کا خوف رکھا ا ور اپنے آپ کو خواہشات سے باز رکھا۔بے شک اس کا ٹھکانہ جنت ہے "۔ اسلامی اور روحانی زندگی ميں طلب اور جستجو کا ايک خاص مقام ہے۔ہدايت اور گمراہی ہر دو مِنْ جَانِبِ اللہِ ہی ہوتے ہيں۔مرد مومن کو چاہيے کہ وہ ہر وقت خدا کی چوکھٹ پر پڑا ر ہے ۔اس سے سوال کرتا رہے ۔اسی داتا کی عطا سے زنگ آلود دل پاک ہوتے ہيں۔مخلوق کو خالق کا قربِ مقصود حاصل ہو تا ہے۔ يہ بات مسلمہ ہے کہ عبادت سے " تقویٰ " کی تشکيل ہوتی ہے اور دعا کے بارے ميں روف رحيم آقا صلی اللہ عليہ وسلم ارشاد فرماتے ہيں :۔ اَ لدُّعَا ھُوَ الْعِبَادَة ۔ ( رواہ ابوداؤد) دُعا ہی عبادت ہے ۔ ايک حديث کا مضمون يہ بھی ہے کہ "دُعا عبادت کا مغز ہے "۔ آقا کے ان دو اقوال سے پتہ چلا کہ دعا ميں اگر عجزونياز مندی شامل ہو،اور دعا گو رياونمود سے اجتناب کر لے رب ذوالجلال کو پکارے تو اس کی تاثير عبادت عامہ سے زيادہ ہوتی ہے ۔ خلاصہ کلام يہ ہو کہ تشکيل تقویٰ کے لئے صدقِ طلب کا ہونا ضروری ہے۔رشد وہدايت کے نور کے حصول کے لئےخود بھی دعا کرنی چاہيےاوراللہ کے نيک بندوں سے بھي دعا کرانی چا ہيے ااس لئے کہ يہ حقيقت ہے کہ نگاہِ ولی ميں يہ تاثير ديکھی بدلتی ہزاروں کی تقدير ديکھی استقامت سے مرادِ لزوِم طاعت ہے۔بعض علما نے کہا کہ خداوند تعالٰی کی رضا کے مطابق اپنے سارے امور کا نظام درست رکھنا استقامت کہلاتا ہے۔ايمان کے بعد استقامت کی اہميت کا اندازہ مخبر صادق صلی اللہ عليہ وآلہ وسلم کی اس حديث سے بھی لگايا جا سکتا ہے کہ ايک بار آپ سے پوچھا گيا کہ کوئی ايسا عمل بتائيں کہ کسی اور سے پوچھنے کی حاجت نہ رہے۔آقا ومولا نے ارشاد فرمايا :۔ قُلْ آ مَنْتُ بِاللہِ ثُمَّ اسْتَقِمْ ۔ کہہ کہ ميں ايمان لايا اللہ پر ۔ پھر استقامت اختيار کر صوفياء کا مسلک ہے کہ استقامت اور استقلال کرامت سے بھی زيادہ اہم شے ہے۔اہل ايمان کے اسی وصف کو قرآن مجيد نے ايک مقام پر يوں بيان فرمايا : ۔ اِنَّ الَّذِيْنَ قَا لُوْا رَبُّنَا اللہُ ثُمَّ اسْتَقَامُوْا فَلاَ خَوْفُ عَلَيْھِمْ وَلاَ ھُمْ يَحْزَ نُوْنَ ہ ( لا حقاف : ١٣) "بے شک جنہوں نے کہا ہمارا رب اللہ ہے پھراس پر ثابت قدم رہے۔نہ ان پر خوف نہ ان کو غم۔ ( الاحقاف : ١٣ ) استقامت کا آسان تر مفہوم ثابت قدمی کا ہے۔تقویٰ کا تعلق چونکہ اجتناب معاصی اور حليت اوامر سے ہے۔اس لئے حصولِ علم کے بعد تقویٰ کے ثمرات ديکھنے کے لئے صبر اورثبات کا ہونا اشد ضروری ہے۔
http://www.nooremadinah.net/Urdu/Documents/Ibadaat/HaqeeqatETaqwa/HaqeeqatETaqwa02.asp |
| Last Updated on Wednesday, 09 September 2009 14:18 |



