آراء

تصوف اور اسلام کے بارے میں آپ کا موجودہ نقطہ نظر کیا ہے؟
 

از: حضرت علامہ محمد الیاس عطار قادری رضوی

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

الحمد للہ رب العالمین ، والصلوٰہ والسلام علیک یا سیدی یا رسول اللہ وعلٰی الیک واصحابک یا حبیب اللہ

سلسلہ عالیہ چشتیہ کے عظیم پیشوا حضرت سیدنا خواجہ غریب نواز حسن سنجری رحمۃ اللہ علیہ کو مدینہء منورہ کی حاضری پر مدینے کے تاجور، نبیوں کے سرور، حضور انور صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کی طرف سے معین الدین (یعنی دین کا مددگار) کا خطاب ملا اور تبلیغ دین کی خاطر اجمیر جانے کا حکم دیا گیا۔


Designed by:
SiteGround web hosting Joomla Templates
انگریزی ادب کے پس منظر میں PDF Print E-mail
Written by عقیدتمند   
Wednesday, 09 September 2009 15:22

۲۔

پیراڈائز لاسٹ پر تنقید و تشریح کرنے والوں نے کبھی شیطان کو ہیرو بنایا تو کبھی خود ملٹن کو۔ کبھی اللہ تعالیٰ کو تو کبھی آدم یا عیسیٰ علیہما السلام کو۔ ممکن ہے ان کی بات ٹھیک ہو ، انہیں اس پہلو کے کچھ شواہد ملتے ہوں ، لیکن مجھے پیراڈائز لاسٹ پڑھ کر یہی لگا تھا کہ اس پر موجود تشریحات کا اس کتاب سے دور کا بھی تعلق نہیں ہے۔ نہ تو ملٹن کا مقصد شیطان کو ہیرو بنانا تھا اور نہ خود ہیرو بننا۔ وہ تو شائد اس ذہنیت کو لکھ رہا تھا جو شیطانی ہے۔ میں تو صرف ایک پہلو سے سمجھنے کی کوشش کرتا ہوں اور وہ یہ ہے کہ ملٹن نے شیطان کے بارے میں جو بھی کچھ لکھا ہے کہ اس یہ کیا اور اس وہ کیا ، اگر وہ کام کوئی انسان کرتا ہے تو وہ شیطانی طبیعت کا انسان ہے۔ پیراڈائز لاسٹ کے مطابق اللہ تعالیٰ نے شیطان کو جب اپنی بارگاہ سے نکال کر جہنم میں پھینکا تو شیطان نے اپنے چیلوں کی مدد سے جہنم کو ہی خوبصورت بنانے اور اسے ہی اپنا مقام یا رہائش گاہ بنانے کا منصوبہ اور ارادہ بنا لیا۔ یہ خود پسندی ، من مانی اور غرور شیطان کا خاصہ ہے۔ آدم کا خاصہ تو یہ ہے کہ ان سے لغزش ہوئی اور وہ آہ و زاری کرنے لگے۔ انہوں نے فوراً خدا تعالیٰ کی بارگاہ میں رجوع کیا اور توبہ کی کوشش کی۔ دوسری طرف شیطان اپنے گناہ پر مصر ہو گیا۔ اس نے خوشی منائی کہ اسے اللہ تعالیٰ کی عبادات اور اطاعت سے نجات مل گئی۔ ملٹن دراصل خوش قسمت اور بد قسمت لوگوں کی بات کر رہا ہے ، اس کے خیال میں جو لوگ اچھی طینت کے ہوتے ہیں وہ غلطی کے بعد فوراً توبہ کی طرف رجوع کرتے ہیں اور جو بری طینت کے ہوتے ہیں وہ بدی پر قائم ہو جاتے ہیں۔ اچھی فطرت کے انسانوں کو گناہ کے بعد احساس ہوتا ہے کہ انہوں نے کیا کھو دیا ہے ، جبکہ بری فطرت کے انسانوں کو یہ احساس ہوتا ہے کہ انہوں نے کیا پا لیا ہے۔ شیطان کی فطرت ہی آدم سے مختلف تھی ، اسے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ سے مردود ہو کر اچھا محسوس ہوا اور اس نے کہا کہ جنت کی غلامی سے دوزخ کی سرداری اچھی ہے۔ اس نے دوزخ کو بنانے سنوارنے اور ہمیشہ کے لئے اسے اپنی جائے پناہ بنانے کا پروگرام بنا لیا۔

ملٹن شائد یہ کہنا چاہتا تھا کہ جو لوگ گناہ کے بعد یہ محسوس کرتے ہیں کہ انہیں تو آگے بڑھنے ، من مانی کرنے اور دوسروں پر غالب آنے کا ایک راستہ مل گیا ہے ، وہ لوگ دراصل شیطانی طبیعت کے ہیں اور ان کا ٹھکانہ جہنم ہے۔ ہر گناہ کے بعد دو احساس پیدا ہوتے ہیں۔ کچھ میں دونوں پیدا ہوتے ہیں اور کچھ میں کوئی ایک ، اور کچھ میں شائد کوئی ایک بھی نہیں۔ ایک تو ندامت ، نقصان اور محرومی کا سا احساس ، اور دوسرا کسی نئے علم کے آنے ، ماضی بیوقوفانہ لگنے اور دوسروں سے آگے نکلنے کا احساس۔ ملٹن صرف یہ بتانا چاہتا تھا کہ گناہ کے بعد جو لوگ شیطان کی طرح محسوس کرتے ہیں ، وہ شیطان کے اور جو لوگ آدم کی طرح محسوس کرتے ہیں وہ اللہ تعالیٰ کے بندے ہیں۔ جنت سے نکالے جانے کے بعد شیطان کے اندر عجیب و غریب احساسات اور جذبات نے جنم لیا۔ اسے ایک طرف اپنی بےعزتی کا احساس تنگ کرتا تو دوسری طرف اپنی اہمیت نہ رکھنے کا۔ اسے یہ محسوس ہوا کہ وہ جس سلوک کا اہل تھا اس سے وہ سلوک روا نہیں رکھا گیا اور یہ کہ اسے اس کے مقام سے بہت گھٹیا سطح پر ٹریٹ کیا گیا ہے۔ ملٹن نے اس مقام پر غیرت ، جوش و جذبے ، غصے ، انتقام ، پلاننگ ، اور جنگ و جدل سے کھوئے ہوئے مقام کو حاصل کرنے کا جو نقشہ شیطان کے تناظر میں پیش کیا ہے وہ دراصل یہ کہنا چاہتا تھا ، یا کم از کم اس کا مفہوم یہ لیا جانا چاہئے تھا ، کہ جو انسان غلطی یا گناہ کے بعد ان احساسات سے دو چار ہوتا ہے اسے اپنا آپ شیطان کے بندوں میں شمار کرنا چاہئے۔

یہ سب کچھ میں نے سالوں پہلے سوچا تھا ، جب میں یا تو ایم اے کر رہا تھا یا ایم اے کو پڑھا رہا تھا۔ اگر کسی کو میرے ان صفحات سے گزرنے کا موقع ملے تو وہ یا تو پیراڈائز لاسٹ خود پڑھ لے یا کسی سے اصل حقائق پوچھ لے۔ میں جو کچھ لکھ رہا ہوں وہ کوئی تحقیقی مقالہ یا حقائق پر مبنی رپورٹ نہیں ہے۔ کچھ لفظوں کا فرق ہو سکتا ہے موجود ہو لیکن میں اسے دور کرنے کے لئے دوبارہ پیراڈائز لاسٹ نہیں پڑھنا چاہتا۔ میں تو گزشتہ کئی سالوں سے وہ سب کچھ بھولنے کی کوشش کر رہا ہوں جو میں نے انگریزی ادب سے سیکھا تھا۔ اسی طرح اگر کسی کو کوئی اور تضاد نظر آئے تو وہ مفہوم کو سامنے رکھے نہ کہ الفاظ اور تھوڑے بہت مختلف حقائق کو۔ میں جو لکھ رہا ہوں نہ تو اسے فن کا اعلیٰ نمونہ بنانے کا ارادہ رکھتا ہوں اور نہ تاریخی نوعیت کا کوئی ڈاکومنٹ۔ مجھے نہ تو زبان و بیان سے کوئی غرض ہے اور نہ پلاٹ اور تانے بانے سے۔ ان صفحوں میں بہت کچھ بے ترتیب ہو گا بہت کچھ ٹوٹا پھوٹا اور نامکمل۔ بہت کچھ غیر متعلقہ اور بے موقع اور بہت کچھ بہت کچھ گھٹیا اور لایعنی۔ اس لئے جس کسی کو ان صفحوں سے گزرنے کی صعوبت اٹھانی پڑے میری اس سے پیشگی استدعا ہے کہ وہ میری ان غلطیوں کو معاف کر دے۔ اور ایک بات میں بڑے یقین سے کہتا ہوں کہ اگر واقعی وہ ان غلطیوں ، کوتاہیوں اور بیوقوفیوں کو نظر انداز کرنے میں کامیاب ہو گیا تو اسے اس کتاب کا حقیقی فائدہ پہنچنے کے امکانات بہت زیادہ ہیں۔ میری بہت سی باتیں اشاروں کنایوں میں ہوں گی اور بہت سی غیر ضروری تفاصیل سے بھری ہوئی۔ بہت سی بے موقع اور بہت سی بے ترتیب ، غیر متعلقہ اور جملہ معترضہ قسم کی۔ میرے پڑھنے والے کو زبان و بیان کے ان تمام سقموں اور فالٹس سے علیحدہ ہو کر رہنا پڑے گا ورنہ ہو سکتا ہے وہ ان صفحوں سے بیزار ہو جائے۔ میرے لئے سوچنا بہت مشکل ہو چکا ہے ، محسوس کرنا اس سے بھی مشکل اور قلم بند کرنا سب سے مشکل۔ ایک وقت تھا جب پیچیس تیس صفحے کی کہانی لکھنی میرے لئے کوئی مسئلہ نہیں تھا۔ لیکن اب ایک آدھ پیراگراف لکھنا بھی کسی عذاب سے کم نہیں ہے۔

 

Last Updated on Monday, 28 December 2009 05:22
 
© 2010 ghouth-e-azam.com