آراء

تصوف اور اسلام کے بارے میں آپ کا موجودہ نقطہ نظر کیا ہے؟
 

از: حضرت علامہ محمد الیاس عطار قادری رضوی

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

الحمد للہ رب العالمین ، والصلوٰہ والسلام علیک یا سیدی یا رسول اللہ وعلٰی الیک واصحابک یا حبیب اللہ

سلسلہ عالیہ چشتیہ کے عظیم پیشوا حضرت سیدنا خواجہ غریب نواز حسن سنجری رحمۃ اللہ علیہ کو مدینہء منورہ کی حاضری پر مدینے کے تاجور، نبیوں کے سرور، حضور انور صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کی طرف سے معین الدین (یعنی دین کا مددگار) کا خطاب ملا اور تبلیغ دین کی خاطر اجمیر جانے کا حکم دیا گیا۔


Designed by:
SiteGround web hosting Joomla Templates
فیصلہ کن واقعات PDF Print E-mail
Written by عقیدتمند   
Wednesday, 09 September 2009 15:23

<!-- /* Style Definitions */ p.MsoNormal, li.MsoNormal, div.MsoNormal {mso-style-parent:""; margin:0in; margin-bottom:.0001pt; text-align:right; mso-pagination:widow-orphan; direction:rtl; unicode-bidi:embed; font-size:12.0pt; font-family:"Times New Roman"; mso-fareast-font-family:"Times New Roman";} @page Section1 {size:8.5in 11.0in; margin:1.0in 1.25in 1.0in 1.25in; mso-header-margin:.5in; mso-footer-margin:.5in; mso-paper-source:0;} div.Section1 {page:Section1;} -->

۳

میرے والدین ، اللہ انہیں کروٹ کروٹ آرام نصیب فرمائے ، اکثر و بیشتر فرماتے تھے کہ جہاں میری پیدائش ہوئی تھی اس علاقے میں تو پانی تک نہیں تھا۔ والد محترم کا ارشاد تھا کہ انہوں نے دو روپے مہینہ کے عوض ایک سقے کو پانی بھرنے کا فرما رکھا تھا۔ وہ سقہ ایک بڑا سا مشکیزہ لاتا اور گھر میں رکھے دو بڑے بڑے مٹکے بھر جاتا۔ وہ والد صاحب کی بڑی عزت کرتا اور ان سے بہت خوش تھا۔ دو روپے اس کے کے لئے ایک بہت بڑی رقم تھی۔

والدہ صاحبہ کا فرمانا تھا کہ میری پیدائش بروز منگل اسوج کی چھ یا سات تاریخ کو ہوئی تھی۔ انہیں یہ تاریخ اس حوالے سے بھی یاد تھی کہ انہی دنوں یا اسی تاریخ کو میرے ایک ماموں کے بیٹے کی شادی بھی تھی۔ بڑے ہو کر میں نے ۱۹۷۰ کا کیلنڈر نکالا تو اس میں اسوج کی چھ سات تاریخ کی بجائے شائد آٹھ یا نو تاریخ بنتی تھی۔ کیونکہ منگل یا تو ایک دو تاریخ کو تھا یا آٹھ نو تاریخ کو۔ بہرحال سپتمبر کا مہینہ کنفرمڈ تھا۔ میری تحقیق کے مطابق میری پیدائش ۲۲ سپتمبر بمطابق ۱۹ ، ۲۰ یا ۲۱ رجب بنتی ہے۔ اگر کبھی موقع ملا تو میں مزید کنفرم کرنے کی کوشش کروں گا۔ والدہ محترمہ کے مطابق میری جائے پیدائش پیرمحل کے کسی سکول یا کالج کا وہ چھوٹا سا کوارٹر تھا جو والد صاحب کو رہنے کے لئے ملا ہوا تھا۔ بقول والدہ محترمہ کے وہ کوارٹر ایک چھوٹے سے کمرے ، کمرے سے آدھے دالان اور اتنے ہی لمبے چوڑے صحن پر مشتمل تھا۔ والدہ صاحبہ کا فرمانا تھا کہ اگر کبھی سقہ پانی دے کر نہ جاتا تو وہ کسی ہمسائی کے ہاتھوں قریبی جوہڑ ، جسے وہ کسّی فرماتی تھیں ، سے پانی منگوایا جاتا اور انہی مٹکوں میں بھر دیا جاتا۔ جب اس پانی میں موجود مٹی نیچے بیٹھ جاتی تو اسے استعمال میں لے آیا جاتا۔ ایک آدھ ہینڈ پمپ کے علاوہ اس علاقے میں نلکے کا نام و نشان نہیں تھا۔

مجھے اپنے بچپن کے جو واقعات یاد ہیں ان میں سب سے پہلا واقعہ کچھ اس طرح ہے کہ جب میری عمر کوئی دو تین سال تھی میرے بھائی آصف علی شاہ کو شدید بیماری کی صورت میں لاہور کے میو ہسپتال لانا پڑا۔ لاہور میں تایا جی کے گھر میں قیام کے بعد آصف علی شاہ کو ہسپتال داخل کروا دیا گیا اور والد محترم اور والدہ محترمہ ہسپتال میں اس کی تماری داری کی غرض سے ساتھ رہنے لگے۔ دوسرے بچے آصف علی شاہ سے بڑے اور سمجھ دار تھے وہ گھر رہ لیتے تھے۔ صرف میں اور مجھ سے چھوٹی میری بہن ایسے تھے جو والدہ محترمہ کے ساتھ ہسپتال میں رہتے رہے۔ کچھ دنوں بعد والدہ محترمہ نے مجھے بھی گھر رکھنے کا فیسلہ کیا تو مجھے کسی طرح بھی قابل قبول نہ لگا۔ میں ساتھ جانے کی ضد کرنے لگا۔ میری ضد کو توڑنے کے لئے انہوں نے مجھے دس روپے کے نوٹ کا لالچ دے کر گھر پر رہنے کا فرمایا۔ لیکن میں بدستور ضد کرتا رہا اور اسی ضد میں چارپائی کے نیچے گھسے گھسے دس روپے کا وہ نوٹ بھاڑ دیا۔ دس روپے کا نوٹ پھٹنے اور ان کی مجبوری کو نہ سمجھ پانے کا جو ملال میں نے اس وقت ان کی آواز اور چہرے سے محسوس کیا وہ میری زندگی کا حصہ بن چکا ہے۔ میں اس واقعے کو ہزاروں بار ان کی جگہ بیٹھ کر سوچ چکا ہوں لیکن شائد میں اس حزن و ملال کا عشر عشیر بھی محسوس نہیں کر پایا جو اس وقت ان کے چہرے اور آواز سے عیاں تھا۔

میں اکثر سوچتا ہوں کہ مجھے اپنا بچپن واقعات سے زیادہ احساسات اور جذبات کے حوالے سے یاد ہے۔ میں نے جو احساس ، جذبہ ، یا علم زندگی میں پہلی بار سیکھا وہ اسی پیرائے میں سالہا سال سے میرے دماغ اور میری گروتھ کا حصہ بن چکا ہے۔ شائد والدہ محترمہ کے دکھ کا احساس ایسے ہی کسی لمحے میں اتنا بڑھا کہ مدر سکنیس کے درجے تک جا پہنچا۔ والدہ محترمہ کے دکھوں اور پریشانیوں کے اس احساس کا پازیٹو پہلو یہ تھا کہ اس نے میری زندگی کا کوئی رخ متعین کر دیا اور مجھے وہ کچھ بنا دیا جو شائد میں اس احساس کے بغیر نہ بن پاتا۔ آج میں شرف الدین اور تکریم فاطمہ میں یہی احساس ڈسکور کرنے اور ان کی زندگیوں کا حصہ بنانے کی شعوری کوشش بھی کرتا ہوں تو شائد اسی لئے کہ جو کچھ قدرت نے مجھے عطا کیا شائد انہیں بھی عطا کر دے۔

 
© 2010 ghouth-e-azam.com