آراء
از: مولانا غلام مصطفٰی قادری رضوی
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
امام احمد رضا کے عشق کی کہانی بڑی نرالی ہے۔ جس پر لکھتے چلے جایئے، نئے نئے اندازِ عشق و محبت نظر آئیں گے۔ اور کیوں نہ ہو کہ انہوں نے قرآن و احادیث سے درسِ محبت و الفت سیکھا ہے۔ صحابہ کرام کے مبارک گوشوں سے اپنی فکر کو تازگی بخشی اور تصورات و خیالات کو نئی زندگی بخشی۔ اسی لیے آج بڑی بڑی شخصیتیں ان کے عشق و ادب کی داد دے رہی ہیں۔ |
| شرائط مرشد |
|
|
|
| Written by عقیدتمند |
| Wednesday, 09 September 2009 18:50 |
|
مرشد کے لئے ضروری ہے کہ قرآن و سنت کا عالم ہو کیونکہ بیعت کا مقصد امر بالمعروف اور انہی عن المنکر ہے ۔ اگر مرشد عالم نہ ہو گا تو ان امور کو سر انجام کیسے دے سکے گا ۔ تاہم یہ ہو سکتا ہے کہ ایک عرصہ تک علماء و مشائخ کی صحبت میں رہ کر اتنی حاصل کر چکا ہو کہ حلال و حرام کی پہچان رکھتا ہو ۔ اور اسلام کی روح سے واقف حاصل کر چکا ہو ۔ تو بھی و عظ و نصیحت کرنے اور بیعت لینے کے لائق ہو جاتا ہے۔
مرشد کے لئے ضروری ہے کہ وہ کسی نہ کسی ایسے سلسلہ تصوف میں بیعت ہو جو نبی پاک تک متصل ہو نیز اس کو شیخ کی طرف سے بیعت لینے کا اذن بھی حاصل ہو ۔ جیسا کہ فتاوی مہریہ میں لکھا ہے ۔ ’’ بیعت کرنے کے قابل وہ شخص ہوتا ہے کہ ضروری علم کے علاوہ اوصاف ذیل بھی رکھتا ہو ۔ متقی ۔ کبائر سے مجتنب ۔ صغائر پر غیر مصر ۔ زاھد عابد۔ اشغال و اذکار پر مداومت کرنے والا ۔ آمر با لمعروف نہی عن المنکر ۔ ذوفہم ۔ مستقل رائے ۔ شیخ کی صحبت سے فیض یافتہ http://www.mairasharif.net/index.php?option=com_content&task=view&id=19&Itemid=31 |



