آراء
از: محمد احرار القادری بسم اللہ الرحمٰن الرحیم ذی الحجہ کا مہینہ تھا پانچ سو تراسی سن ہجری اور گیارہ سو ستاسی عسیوی تھی، مکۃ المکرمہ کی سر زمین پر میدان محشر کا سا سماں تھا، چہار دانگ عالم سے فرزندان توحید اپنے معبود حقیقی کے اس فرمان “واتموا الحج والعمرۃ للہ، کی تعمیل کیلئے سر نیاز خم کئے سیل رواں کی طرح جوق در جوق جمع ہو گئے تھے |
| بیعت |
|
|
|
| Written by عقیدتمند |
| Wednesday, 09 September 2009 18:52 |
|
بیعت کا لفط بیع سے مشتق ہے جس کے معنی ہیں بیچ دینا ۔ قدم عرنون کا طریقہ تھا کہ جب کوئی سے دو فریقوں میں کوئی معاہدہ طے پا جاتا ہے تو مصافحہ کر کے اس کا اظہار و اعلان کیا جاتا۔ اس مصافحہ کو بیعت کہتے تھے۔ حاکم کی حاکمیت کو تسلیم کرنے کا علان بھی ہاتھ میں ہامیں ہاھت دے کر کیا جاتا ہے اس لیئے تسلیم کرنے کے اس عمل کوبھی بیعت ہیں۔ بیعت مروجہ میں چونکہ شیخ مرید کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے کر اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کا عہد لیتا ہے اس لیئے یہ عہد بھی بیعت کہلاتا ہے ۔ کئی طرح کی ہوتی ہے جسے بیعت اسلام بیعت خلافت بیعت تقویٰ یا بیعت طریقت۔
بیعت مروجہ بیعت تقویٰ ہی ہے کیو نکہ پیر طریقت مرید سے ترک معاصی اور اتباع چریعت پر بیعت لیتا ہے اس بیعت کی اصل نبی پاک کا مختلف مواقع پر مختلف امور کے لئے صحابیات سے اس بیعت لینا ہے قرآن مقدس اور صحیح بخاری شریف سے ثابت ہے کی آپ نے صحابہ سے تقویٰ اور اقامت اسلام اور جہاد پر بیعت لی ہے صحابیات سے نوحہ نہ کرنے اور شرک چوری بد کاری قتل اولاد بہتان طرازی اور آپ کی نافرمانی نہ کرنے پر بیعت لی ہے۔ علماء حق نے بیعت طریقت کو ادلہ سے ثابت فرمایا ہے القول الجلی میں شاہ ولی اللہ صاحب کا ایک ملفوظ ہے کہ حضرت شیخ عبدالرحیم ( والد بزرگوار شاہ ولی اللہ صاحب ایک مجلس میں تشریف فر ما تھے کہ مولانا میرعصمت اللہ صاحب سہارن پوری بھی آ گئے مو لانا بیعت وارادت وغیرہ امور پر یقین رکھتے تھے حضرت شیخ نے ان سے فرمایا آپ کس کے مرید ہیں مولانا کہنے لگے کیا مرید ہونا شریعت سے ثابت ہے کہ اس کا التزام کی جائے حضرت شیخ نے فرمایا حض شرعیہ کتاب و سنت و اجماع ہیں ۔ اور قول مجتہد بھی حجت ہے اور یہ امور ان سے ثابت ہے میر صاحب نے پوچھا وہ کیسے بیان فرمائیں حضرت شیخ عبدالرخیم نے فرمایا ۔ اللہ تعالیٰ قرآن مین فرمایا ہے۔ یا ایھاالذین امنو ااتقواللہ وابتغو ا الیہ الوسیلۃ وجاھدہ فی سبیلہ لعکم تفعلوں
تر جمہ:اے ایمان والو اللہ سے ڈرو اور اسکی طرف وسیلہ ڈھونڈو اور اسکی راہ میں جہاد کرو اس امید پر کہ فلاح پاؤ۔
اس آیت میں وسیلہ سے مراد کیا ہے ۔ میر صاحب نے مفسرین کے اقوال سے بیان کیا کہ ن سے اعمال صالحہ ہیں حضرت شیخ نے فرمایا یہاں یہ معنی نہیں وسیلہ سے مراد ایمان نہیں ہو سکتا کیو نکہ خطاب ہی ایمان والوں صالحہ تقوی سے مراد وامرنواہی کی پابندی ہے۔ یوں اعمال صالحہ تقوی میں داخل ہیں۔ یہاں ایمان و تقوی کے بعد وسیلہ ڈھونڈ نے کا حکم ہے واؤ عاطفہ ایمان و تقویٰ کے بعد ہے اور وہ شے یہی ارادت و بیعت مرسد ہے اس کے بعد جہاد کا ذکر ہے اور آخر میں ان امور کی بجا آوری کے انعام کا ذکر ہے اور وہ انعام فلاح ہے رہی حدیث پاک تو نبی پاک نے اپنے صحابی سے فرمایا ؛ کیف اصبحت یا حارثہ قال اصبحت مومنا حقا اسھرت لیلی و اظمات نھاری حتی استوی عندی
ذھبھما و مدرھا ورایت اھل الجنۃ یتز اورون و اہل النار یعذبون وکانی انظر الی عرش الرحمن۔
ترجمہ:تو سچا مومن کیسے بنا ۔ عر ض کیا جگرتوں اور بھوک پیاس سے حتیٰ کہ سونا اور پتھر میرے لیے یکساں ہو گئے میں اہل جنت کو آپس میں ملتا اور اہل دوزخ کو عذاب مین مبتلا دیکھا اور گویا مین اللہ تعالیٰ کا عر ش دیکھ رہا ہوں۔
معلوم ہوا کہ راتوں کا جاگنا اور بھوک پیاس برداشت کرنا مجاھدہ ہے اور کشف مغیبات کا ذریعہ ہے۔ ان امور کا التزام بھی اس حدیث پاک سے معلوم ہو گیا اور طریق تصوف یہی ہے اور رہا اجماع امت پس لاکھوں علماء اور صاحبان عرفان دور نبوی ﷺ سے لے کر آج تک اسی طریقے پر گامزن ہیں ۔اور جہاںتک قول مجتہد کا تعلق تو مشہور ہے کہ امام اعظم نے فرمایا: لولا اثنان لھلک نعمان
شاہ عبد الرحیم صاحب رحمۃاللہ علیہ کے ان ارشادات کو سن کر میر عصمت اللہ صاحب تصوف و روحانیت اور بیعت و ارادت کے قائل ہو گئے۔ http://www.mairasharif.net/index.php?option=com_content&task=view&id=18&Itemid=31 |



