آراء
از: محمد احرار القادری بسم اللہ الرحمٰن الرحیم ذی الحجہ کا مہینہ تھا پانچ سو تراسی سن ہجری اور گیارہ سو ستاسی عسیوی تھی، مکۃ المکرمہ کی سر زمین پر میدان محشر کا سا سماں تھا، چہار دانگ عالم سے فرزندان توحید اپنے معبود حقیقی کے اس فرمان “واتموا الحج والعمرۃ للہ، کی تعمیل کیلئے سر نیاز خم کئے سیل رواں کی طرح جوق در جوق جمع ہو گئے تھے |
| شہ بغداد کا جلوہ |
|
|
|
| Written by عقیدتمند |
| Thursday, 10 September 2009 03:46 |
|
شہ بغداد کا جلوہ خدا خود والہ و شیدا جناب غوث اعظم کا سر عالم میں ہے سودا جناب غوث اعظم کا
بشر شیدا ، ملک شیدا ، زمین و آسمان شیدا جسے دیکھا وہی شیدا جناب غوث اعظم کا
جو دیکھے اک نظر بھر کر شہ بغداد کا جلوہ رہے تا حشر متوالا جناب غوث اعظم کا
تعالیٰ اللہ زہے حسن و جمال شاہ جیلانی عجب حسن جہاں آراء جناب غوث اعظم کا
دل مضطر کی کیفیت بدل جاتی ہے دم بھر میں ہے کیا پر کیف نظارہ جناب غوث اعظم کا
جلال پاک کی ہیبت ہے چھائی سارے عالم میں ہے ہر سو بج رہا ڈنکا جناب غوث اعظم کا
اگر وہ ناز سے پوچھیں تو کس کا بندہ ہے حافظ کہوں بے ساختہ شاہا " جناب غوث اعظم کا
حضرت حافظ برکت علی قادری رحمۃ اللہ علیہ |



