|
Written by عقیدتمند
|
|
Wednesday, 09 September 2009 18:52 |
|
بیعت کا لفط بیع سے مشتق ہے جس کے معنی ہیں بیچ دینا ۔ قدم عرنون کا طریقہ تھا کہ جب کوئی سے دو فریقوں میں کوئی معاہدہ طے پا جاتا ہے تو مصافحہ کر کے اس کا اظہار و اعلان کیا جاتا۔ اس مصافحہ کو بیعت کہتے تھے۔ حاکم کی حاکمیت کو تسلیم کرنے کا علان بھی ہاتھ میں ہامیں ہاھت دے کر کیا جاتا ہے اس لیئے تسلیم کرنے کے اس عمل کوبھی بیعت ہیں۔ بیعت مروجہ میں چونکہ شیخ مرید کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے کر اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کا عہد لیتا ہے اس لیئے یہ عہد بھی بیعت کہلاتا ہے ۔ کئی طرح کی ہوتی ہے جسے بیعت اسلام بیعت خلافت بیعت تقویٰ یا بیعت طریقت۔
|
|
Read more...
|
|
|
Written by عقیدتمند
|
|
Wednesday, 09 September 2009 18:50 |
|
مرشد کے لئے ضروری ہے کہ قرآن و سنت کا عالم ہو کیونکہ بیعت کا مقصد امر بالمعروف اور انہی عن المنکر ہے ۔ اگر مرشد عالم نہ ہو گا تو ان امور کو سر انجام کیسے دے سکے گا ۔ تاہم یہ ہو سکتا ہے کہ ایک عرصہ تک علماء و مشائخ کی صحبت میں رہ کر اتنی حاصل کر چکا ہو کہ حلال و حرام کی پہچان رکھتا ہو ۔ اور اسلام کی روح سے واقف حاصل کر چکا ہو ۔ تو بھی و عظ و نصیحت کرنے اور بیعت لینے کے لائق ہو جاتا ہے۔
|
|
Read more...
|
|
Written by عقیدتمند
|
|
Wednesday, 09 September 2009 18:49 |
|
فتاوی مہریہ میں حضرت پیر میر علی شاہ صاحب فرماتے ہیں ۔ بیعت طریقت سے غرض حصول سکینہ با طمینان قلب و اخلاص وشوق و ترک ماسوٰی الہ ۔ سنت اللہ اس پرجاری ہے کہ علماء کی محبت کے بغیر علم ، خیاط کی مجلس کے بغیر خیاطت اور آہن گر کی صحبت کے سوا آہن گری حاصل نہیں ہوتی۔
|
|
Read more...
|
|
|
Written by عقیدتمند
|
|
Wednesday, 09 September 2009 18:47 |
|
مجتہدین تصوف کے جداجدا اصولوں اور فروغی اختلاف کی وجہ سے تصوف کے مختلف سلاسل وجود میں آئے ہیں۔ جن میں بڑے سلاسل چار ہیں اور آج دنیا بھر میں انہی کا فیض ہے۔ سلسلہ قادریہ ، سلسلہ چشتیہ۔سلسلہ سہروردیہ ، سلسلہ رادریہ حضرت غوث اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا سلسلہ سہروردیہ حضرت شیخ شہاب الدین سہروردی رحمتہ اللہ علیہ کا اور سلسلہ نقشبند یہ حضرت غوث بہاؤ الدین نقشبند رحمتہ اللہ علیہ کا ہے۔
|
|
Read more...
|
|
Written by عقیدتمند
|
|
Wednesday, 09 September 2009 18:45 |
|
لفظ صوفی اور تصوف کی کئی طرح تشریح و توضیح کی گئی ہے لیکن یہاںا سی تعریف اکتفاء کیا جا رہا ہے جس کع مخدوم امت سید علی ابن عثمان الحسینی الہجویری المعروف داتا گنج بخش رحمتہ اللہ علیہ نے اپنی شہرہ آفاق تصنیف کشف المحجوب میں ترجیح دی ہے۔ فرماتے ہیں صفا کدورت کی ضد ہے چونکہ صوفیء اخلاق و عادات کو سنوار لیتے ہیں طبیعی عیوب مکی آلودگی سے آپ کو پاک رکھتے اس لئے انہیں صوفی کہاجا تاہے۔ یہ اسم عرفاء کیلئے علم ہے۔
|
|
Read more...
|
|
|
|
|
|
|
Page 1 of 2 |