آراء

تصوف اور اسلام کے بارے میں آپ کا موجودہ نقطہ نظر کیا ہے؟
 

از: حضرت علامہ محمد الیاس عطار قادری رضوی

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

الحمد للہ رب العالمین ، والصلوٰہ والسلام علیک یا سیدی یا رسول اللہ وعلٰی الیک واصحابک یا حبیب اللہ

سلسلہ عالیہ چشتیہ کے عظیم پیشوا حضرت سیدنا خواجہ غریب نواز حسن سنجری رحمۃ اللہ علیہ کو مدینہء منورہ کی حاضری پر مدینے کے تاجور، نبیوں کے سرور، حضور انور صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کی طرف سے معین الدین (یعنی دین کا مددگار) کا خطاب ملا اور تبلیغ دین کی خاطر اجمیر جانے کا حکم دیا گیا۔


Designed by:
SiteGround web hosting Joomla Templates
قرآن و سنت
تصوف حدیث کی روشنی میں PDF Print E-mail
Written by عقیدتمند   
Wednesday, 09 September 2009 17:23

حضرت ابو ہریرۃ   سے روایت ہے کہ میں نے رسول اﷲ  سے علم کی دو برتن حاصل کیے ایک تو میں نے تم میں تقسیم کر دیا ہے اور اگر دوسرا میں تم  میں بانٹ دوں تو میرا حلقوم کاٹ دیا جائے۔ تفسیر مظہری میں ہے کو اس علم کی دوسری برتن سے مراد علم لدنی ہے ۔
حدیث عن الحسن قال العلم علمان فعلم فی القلب فذالک علم نا فع  وعلم اللسان فذاک حجتہ اﷲ عزوجل علیٰ ابن آدم۔
حضرت شیخ الحق محدث دہلوی اس کی شرح کرتے ہوئے فرماتی ہیں کو علمِ نافع وہ علم ہے کہ اسکی رو شنی د ل میں پھیلتی ہے اور اس سے دل کے پردے ا ٹھتے ہیں اور علمِ زباں وہ علم ہے کہ تاثیر نہ کرے اور دل کو نورانی نہ کرے ۔
حضرت امام ربانی مجدد الف ثانی اس کی ایک مثال دیتے ہیں اور بیان فرماتے ہیں کہ خدا کا ہر جگہ حاظر،ناظر ہونا عقا ئد اسلام میں ہے ۔ عالم و جاہل خاص و عام اس پر اعتقاد رکھتے ہیں  چونکہ عام لوگوں کو یہ علم تقلید اور استدلال سے حاصل ہوتا ہے اس لئے  اس سے کوئی خاص حالت پیدا نہیں ہوتی ۔ اعمال اور افعا ل پر اس کا چنداں اثر نہیں پڑتا ۔ بخلاف اس کے تصوف میں اس مسئلے کا علم مشاہدہ و کشف سے ہوتا ہے۔ یعنی صوفی کو چاروں طرف خدا ہی خد ا نظر آتا ہے۔اور اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اس پر خشوع اور خضوع، ہیبت ، خوف اور ادب کی وہ کیفیت طاری ہوتی ہے جو کسی ظاہری علم سی حاصل نہیں ہو سکتی۔
الحدیث:۔ العلماء وارثہُ الانبیاء۔حضرت امام ربانی مجدد الف ثانی  اپنی ایک مکتوب میں اس کی تشریح کرتے ہوئے فرماتے ہیں کو وہ علم جو انبیا  سے باقی رہا ہے دو قسم کا ہے  ایک علم احکام اور دوسرا علم اسرار (علم باطن) وارث انبیا وہ عالم ہے یا عا لم وارث وہ شخص ہے جس کو ان دونوں علو م سے حصہ حاصل ہو نہ کہ وہ شخص جس کو ایک ہی قسم کا علم نصیب ہو اور دوسر ا علم نصیب نہ ہو یہ بات وراثت کے منافی ہے۔

 

http://www.churasharif.com/index.php?option=com_content&view=article&id=12&Itemid=20

 
علمِ تصوف قرآن کی روشنی میں PDF Print E-mail
Written by عقیدتمند   
Wednesday, 09 September 2009 17:20

۔کمَاَ اَر’سَلنَا فِیکُم رسولاَ مِنکُم یتلُو عَلیکُم اٰیٰتِنا و یُزکِیکُمُ وَ یُعَلّمُکُم الکتٰبَ وَ الحکمۃَ وَ یعلّمُکُم مَّا لم تَکُونُو تَعلَمُونَ۔
ترجمہ۔ جس طرح تم میں ہم نے ایک رسول بھیجا ۔ تم ہی میں سے ہماری آیات تم کو پڑھ کر سناتے ہیں اور تم کو پاک کرتے ہیں اور تم کو کتا ب وحکمت کی تعلیم دیتے ہیں اور اس چیز کی بھی تم کو تعلیم دیتے ہیں جن کو تم نہیں جانتے تھے۔

Read more...
 
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم PDF Print E-mail
Written by عقیدتمند   
Friday, 04 September 2009 16:57

ابھی تک میں جملہ کو دائیں طرف سے لکھنے پڑھنے کے قابل بنانے کی کوشش کر رہا ہوں۔ اصل میں یہ کام شروع کرنے سے پہلے میں نے سوچا نہیں تھا کہ یہ اتنا کمپلیکس ہوگا۔

 
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم PDF Print E-mail
Written by عقیدتمند   
Friday, 04 September 2009 14:11

اللہ تعالیٰ کے بابرکت نام سے یہ غوث اعظم ڈاٹ کام کی پہلی پوسٹ ہے جو اردو میں ہے۔

 
صیغہ خطاب کے ساتھ صلاۃ و سلام شرک نہیں PDF Print E-mail
Written by عقیدتمند   
Thursday, 16 July 2009 06:31

بعض لوگ جوشِ توحید میں صیغۂ خطاب کے ساتھ آقائے دوجہاں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر صلاۃ و سلام کو استعانت بالغیر کہہ کر شرک قرار دیتے ہیں اوراسے ناجائز سمجھتے ہیں جو سراسر غلط ہے۔ اللہ تعالیٰ نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پکارنے سے منع نہیں کیا بلکہ پکارنے کے آداب سکھائے ہیں، ارشادِ ربّانی ہے

Last Updated on Wednesday, 09 September 2009 16:15
Read more...
 
اولیاء اللہ کے مزارات پر حاضری کے آداب PDF Print E-mail
Written by عقیدتمند   
Wednesday, 15 July 2009 13:56

اولیاء اللہ کے مزارات پر حاضری اور دُعا سے متعلق بعض طبقات کی سوچ اور طرزِ عمل افراط و تفریط کا شکار ہے۔ ایک طبقہ وہ ہے جو سرے سے اِس کے جواز کا ہی قائل نہیں بلکہ اِسے صریح شرک و بدعت گردانتا ہے۔ اِس کے برعکس ایک طبقہ عوام الناس کا ہے جسے اہلِ علم کی سند حاصل نہیں وہ بھی اِس سلسلہ میں جہالت اور تفریط میں مبتلا ہے۔ جمہور مسلمانوں کا مزارات پر طریقِ حاضری و دُعا نہایت معقول اور حزم و احتیاط کا آئینہ دار ہے۔ قاضی الحاجات، فریاد رس اور حقیقی مشکل کشا اللہ تعالیٰ کی ذات ہے۔ لیکن مقربینِ بارگاہِ الٰہی انبیاء و اولیاء کا دُعا میں توسل جائز ہے اور اِن کے توسل سے دُعائیں قبول ہوتی ہیں۔ اِس سلسلہ میں حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں۔

Last Updated on Wednesday, 09 September 2009 16:09
Read more...
 
اعتدال و توازن : اہل حق کا امتیاز PDF Print E-mail
Written by عقیدتمند   
Wednesday, 15 July 2009 13:56

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

اُمتِ مسلمہ میں باہمی مذہبی اور اعتقادی اختلاف، بے اعتدالی کے باعث پیدا ہوا۔ ایک طرف بندگانِ خدا اور مقبولانِ بارگاہ کی محبت و عقیدت میں بربنائے جہالت غلو اس حد تک بڑھا کہ بات افراط تک جا پہنچی اور دوسری طرف ردِ عمل میں تخفیف و تنقیص کے باعث معاملہ تفریط تک پہنچ گیا۔ افراط نے جہاں خرافات و بدعات کا دروازہ کھولا وہاں تفریط گستاخی و اہانت کا رنگ اختیار کر گئی۔ پس محبتوں اور عقیدتوں کی حدود اور ان کے مراتب و مدارج کا تعین کرنا لازمی و لابدی امر ہے۔ اہلِ حق ہمیشہ سے حضرات انبیائے کرام علیہم السلام سے لے کر اولیاءے عظام تک فرقِ مراتب کو ملحوظ رکھتے چلے آئے ہیں لہٰذا افرادِ ملت کے درمیان توازن و اعتدال قائم رکھنا ہی صراطِ مستقیم ہے۔

Last Updated on Wednesday, 09 September 2009 16:17
Read more...
 
ضعف اعتقاد پر مبنی رسومات سے اجتناب PDF Print E-mail
Written by عقیدتمند   
Wednesday, 15 July 2009 09:54

دینِ اسلام کے احکام اور اوامر و نواہی کا منبع اور سرچشمہ قرآن اور سنت و سیرت نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہے۔ اچھے اور صالح اسلامی معاشرے میں لوگ اطاعت الٰہی اور اتباع رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ہی معیار عمل سمجھتے ہیں۔ تاہم دین سے دوری اور بے عملی کی وجہ سے ہر دور میں کچھ طبقات معاملاتِ حیات میں ڈگمگا جاتے ہیں۔ ایسے میں علمائے حق اور داعیان دین کا فریضہ ہوتا ہے کہ وہ سادہ لوح لوگوں کی ہدایت و رہنمائی فرمائیں۔ جائز اور ناجائز میں، حلال و حرام میں، توحید اور شرک میں فرق سمجھائیں۔ احکامِ دین کی تبلیغ میں ذاتی مفادات کو آڑے نہ آنے دیں ورنہ دین کھیل بن جائے گا۔ ذیل میں اسی طرح کے کچھ امور کا ذکر ہو رہا ہے جن میں احتیاط اور پرہیز ضروری ہے مثلاً

Last Updated on Wednesday, 09 September 2009 16:12
Read more...
 


© 2010 ghouth-e-azam.com