آراء

تصوف اور اسلام کے بارے میں آپ کا موجودہ نقطہ نظر کیا ہے؟
 

از: محمد احرار القادری

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

ذی الحجہ کا مہینہ تھا پانچ سو تراسی سن ہجری اور گیارہ سو ستاسی عسیوی تھی، مکۃ المکرمہ کی سر زمین پر میدان محشر کا سا سماں تھا، چہار دانگ عالم سے فرزندان توحید اپنے معبود حقیقی کے اس فرمان “واتموا الحج والعمرۃ للہ، کی تعمیل کیلئے سر نیاز خم کئے سیل رواں کی طرح جوق در جوق جمع ہو گئے تھے


Designed by:
SiteGround web hosting Joomla Templates
احقر العباد
فیصلہ کن واقعات PDF Print E-mail
Written by عقیدتمند   
Wednesday, 09 September 2009 15:23

<!-- /* Style Definitions */ p.MsoNormal, li.MsoNormal, div.MsoNormal {mso-style-parent:""; margin:0in; margin-bottom:.0001pt; text-align:right; mso-pagination:widow-orphan; direction:rtl; unicode-bidi:embed; font-size:12.0pt; font-family:"Times New Roman"; mso-fareast-font-family:"Times New Roman";} @page Section1 {size:8.5in 11.0in; margin:1.0in 1.25in 1.0in 1.25in; mso-header-margin:.5in; mso-footer-margin:.5in; mso-paper-source:0;} div.Section1 {page:Section1;} -->

۳

میرے والدین ، اللہ انہیں کروٹ کروٹ آرام نصیب فرمائے ، اکثر و بیشتر فرماتے تھے کہ جہاں میری پیدائش ہوئی تھی اس علاقے میں تو پانی تک نہیں تھا۔ والد محترم کا ارشاد تھا کہ انہوں نے دو روپے مہینہ کے عوض ایک سقے کو پانی بھرنے کا فرما رکھا تھا۔ وہ سقہ ایک بڑا سا مشکیزہ لاتا اور گھر میں رکھے دو بڑے بڑے مٹکے بھر جاتا۔ وہ والد صاحب کی بڑی عزت کرتا اور ان سے بہت خوش تھا۔ دو روپے اس کے کے لئے ایک بہت بڑی رقم تھی۔

والدہ صاحبہ کا فرمانا تھا کہ میری پیدائش بروز منگل اسوج کی چھ یا سات تاریخ کو ہوئی تھی۔ انہیں یہ تاریخ اس حوالے سے بھی یاد تھی کہ انہی دنوں یا اسی تاریخ کو میرے ایک ماموں کے بیٹے کی شادی بھی تھی۔ بڑے ہو کر میں نے ۱۹۷۰ کا کیلنڈر نکالا تو اس میں اسوج کی چھ سات تاریخ کی بجائے شائد آٹھ یا نو تاریخ بنتی تھی۔ کیونکہ منگل یا تو ایک دو تاریخ کو تھا یا آٹھ نو تاریخ کو۔ بہرحال سپتمبر کا مہینہ کنفرمڈ تھا۔ میری تحقیق کے مطابق میری پیدائش ۲۲ سپتمبر بمطابق ۱۹ ، ۲۰ یا ۲۱ رجب بنتی ہے۔ اگر کبھی موقع ملا تو میں مزید کنفرم کرنے کی کوشش کروں گا۔ والدہ محترمہ کے مطابق میری جائے پیدائش پیرمحل کے کسی سکول یا کالج کا وہ چھوٹا سا کوارٹر تھا جو والد صاحب کو رہنے کے لئے ملا ہوا تھا۔ بقول والدہ محترمہ کے وہ کوارٹر ایک چھوٹے سے کمرے ، کمرے سے آدھے دالان اور اتنے ہی لمبے چوڑے صحن پر مشتمل تھا۔ والدہ صاحبہ کا فرمانا تھا کہ اگر کبھی سقہ پانی دے کر نہ جاتا تو وہ کسی ہمسائی کے ہاتھوں قریبی جوہڑ ، جسے وہ کسّی فرماتی تھیں ، سے پانی منگوایا جاتا اور انہی مٹکوں میں بھر دیا جاتا۔ جب اس پانی میں موجود مٹی نیچے بیٹھ جاتی تو اسے استعمال میں لے آیا جاتا۔ ایک آدھ ہینڈ پمپ کے علاوہ اس علاقے میں نلکے کا نام و نشان نہیں تھا۔

مجھے اپنے بچپن کے جو واقعات یاد ہیں ان میں سب سے پہلا واقعہ کچھ اس طرح ہے کہ جب میری عمر کوئی دو تین سال تھی میرے بھائی آصف علی شاہ کو شدید بیماری کی صورت میں لاہور کے میو ہسپتال لانا پڑا۔ لاہور میں تایا جی کے گھر میں قیام کے بعد آصف علی شاہ کو ہسپتال داخل کروا دیا گیا اور والد محترم اور والدہ محترمہ ہسپتال میں اس کی تماری داری کی غرض سے ساتھ رہنے لگے۔ دوسرے بچے آصف علی شاہ سے بڑے اور سمجھ دار تھے وہ گھر رہ لیتے تھے۔ صرف میں اور مجھ سے چھوٹی میری بہن ایسے تھے جو والدہ محترمہ کے ساتھ ہسپتال میں رہتے رہے۔ کچھ دنوں بعد والدہ محترمہ نے مجھے بھی گھر رکھنے کا فیسلہ کیا تو مجھے کسی طرح بھی قابل قبول نہ لگا۔ میں ساتھ جانے کی ضد کرنے لگا۔ میری ضد کو توڑنے کے لئے انہوں نے مجھے دس روپے کے نوٹ کا لالچ دے کر گھر پر رہنے کا فرمایا۔ لیکن میں بدستور ضد کرتا رہا اور اسی ضد میں چارپائی کے نیچے گھسے گھسے دس روپے کا وہ نوٹ بھاڑ دیا۔ دس روپے کا نوٹ پھٹنے اور ان کی مجبوری کو نہ سمجھ پانے کا جو ملال میں نے اس وقت ان کی آواز اور چہرے سے محسوس کیا وہ میری زندگی کا حصہ بن چکا ہے۔ میں اس واقعے کو ہزاروں بار ان کی جگہ بیٹھ کر سوچ چکا ہوں لیکن شائد میں اس حزن و ملال کا عشر عشیر بھی محسوس نہیں کر پایا جو اس وقت ان کے چہرے اور آواز سے عیاں تھا۔

میں اکثر سوچتا ہوں کہ مجھے اپنا بچپن واقعات سے زیادہ احساسات اور جذبات کے حوالے سے یاد ہے۔ میں نے جو احساس ، جذبہ ، یا علم زندگی میں پہلی بار سیکھا وہ اسی پیرائے میں سالہا سال سے میرے دماغ اور میری گروتھ کا حصہ بن چکا ہے۔ شائد والدہ محترمہ کے دکھ کا احساس ایسے ہی کسی لمحے میں اتنا بڑھا کہ مدر سکنیس کے درجے تک جا پہنچا۔ والدہ محترمہ کے دکھوں اور پریشانیوں کے اس احساس کا پازیٹو پہلو یہ تھا کہ اس نے میری زندگی کا کوئی رخ متعین کر دیا اور مجھے وہ کچھ بنا دیا جو شائد میں اس احساس کے بغیر نہ بن پاتا۔ آج میں شرف الدین اور تکریم فاطمہ میں یہی احساس ڈسکور کرنے اور ان کی زندگیوں کا حصہ بنانے کی شعوری کوشش بھی کرتا ہوں تو شائد اسی لئے کہ جو کچھ قدرت نے مجھے عطا کیا شائد انہیں بھی عطا کر دے۔

 
انگریزی ادب کے پس منظر میں PDF Print E-mail
Written by عقیدتمند   
Wednesday, 09 September 2009 15:22

۲۔

پیراڈائز لاسٹ پر تنقید و تشریح کرنے والوں نے کبھی شیطان کو ہیرو بنایا تو کبھی خود ملٹن کو۔ کبھی اللہ تعالیٰ کو تو کبھی آدم یا عیسیٰ علیہما السلام کو۔ ممکن ہے ان کی بات ٹھیک ہو ، انہیں اس پہلو کے کچھ شواہد ملتے ہوں ، لیکن مجھے پیراڈائز لاسٹ پڑھ کر یہی لگا تھا کہ اس پر موجود تشریحات کا اس کتاب سے دور کا بھی تعلق نہیں ہے۔ نہ تو ملٹن کا مقصد شیطان کو ہیرو بنانا تھا اور نہ خود ہیرو بننا۔ وہ تو شائد اس ذہنیت کو لکھ رہا تھا جو شیطانی ہے۔ میں تو صرف ایک پہلو سے سمجھنے کی کوشش کرتا ہوں اور وہ یہ ہے کہ ملٹن نے شیطان کے بارے میں جو بھی کچھ لکھا ہے کہ اس یہ کیا اور اس وہ کیا ، اگر وہ کام کوئی انسان کرتا ہے تو وہ شیطانی طبیعت کا انسان ہے۔ پیراڈائز لاسٹ کے مطابق اللہ تعالیٰ نے شیطان کو جب اپنی بارگاہ سے نکال کر جہنم میں پھینکا تو شیطان نے اپنے چیلوں کی مدد سے جہنم کو ہی خوبصورت بنانے اور اسے ہی اپنا مقام یا رہائش گاہ بنانے کا منصوبہ اور ارادہ بنا لیا۔ یہ خود پسندی ، من مانی اور غرور شیطان کا خاصہ ہے۔ آدم کا خاصہ تو یہ ہے کہ ان سے لغزش ہوئی اور وہ آہ و زاری کرنے لگے۔ انہوں نے فوراً خدا تعالیٰ کی بارگاہ میں رجوع کیا اور توبہ کی کوشش کی۔ دوسری طرف شیطان اپنے گناہ پر مصر ہو گیا۔ اس نے خوشی منائی کہ اسے اللہ تعالیٰ کی عبادات اور اطاعت سے نجات مل گئی۔ ملٹن دراصل خوش قسمت اور بد قسمت لوگوں کی بات کر رہا ہے ، اس کے خیال میں جو لوگ اچھی طینت کے ہوتے ہیں وہ غلطی کے بعد فوراً توبہ کی طرف رجوع کرتے ہیں اور جو بری طینت کے ہوتے ہیں وہ بدی پر قائم ہو جاتے ہیں۔ اچھی فطرت کے انسانوں کو گناہ کے بعد احساس ہوتا ہے کہ انہوں نے کیا کھو دیا ہے ، جبکہ بری فطرت کے انسانوں کو یہ احساس ہوتا ہے کہ انہوں نے کیا پا لیا ہے۔ شیطان کی فطرت ہی آدم سے مختلف تھی ، اسے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ سے مردود ہو کر اچھا محسوس ہوا اور اس نے کہا کہ جنت کی غلامی سے دوزخ کی سرداری اچھی ہے۔ اس نے دوزخ کو بنانے سنوارنے اور ہمیشہ کے لئے اسے اپنی جائے پناہ بنانے کا پروگرام بنا لیا۔

ملٹن شائد یہ کہنا چاہتا تھا کہ جو لوگ گناہ کے بعد یہ محسوس کرتے ہیں کہ انہیں تو آگے بڑھنے ، من مانی کرنے اور دوسروں پر غالب آنے کا ایک راستہ مل گیا ہے ، وہ لوگ دراصل شیطانی طبیعت کے ہیں اور ان کا ٹھکانہ جہنم ہے۔ ہر گناہ کے بعد دو احساس پیدا ہوتے ہیں۔ کچھ میں دونوں پیدا ہوتے ہیں اور کچھ میں کوئی ایک ، اور کچھ میں شائد کوئی ایک بھی نہیں۔ ایک تو ندامت ، نقصان اور محرومی کا سا احساس ، اور دوسرا کسی نئے علم کے آنے ، ماضی بیوقوفانہ لگنے اور دوسروں سے آگے نکلنے کا احساس۔ ملٹن صرف یہ بتانا چاہتا تھا کہ گناہ کے بعد جو لوگ شیطان کی طرح محسوس کرتے ہیں ، وہ شیطان کے اور جو لوگ آدم کی طرح محسوس کرتے ہیں وہ اللہ تعالیٰ کے بندے ہیں۔ جنت سے نکالے جانے کے بعد شیطان کے اندر عجیب و غریب احساسات اور جذبات نے جنم لیا۔ اسے ایک طرف اپنی بےعزتی کا احساس تنگ کرتا تو دوسری طرف اپنی اہمیت نہ رکھنے کا۔ اسے یہ محسوس ہوا کہ وہ جس سلوک کا اہل تھا اس سے وہ سلوک روا نہیں رکھا گیا اور یہ کہ اسے اس کے مقام سے بہت گھٹیا سطح پر ٹریٹ کیا گیا ہے۔ ملٹن نے اس مقام پر غیرت ، جوش و جذبے ، غصے ، انتقام ، پلاننگ ، اور جنگ و جدل سے کھوئے ہوئے مقام کو حاصل کرنے کا جو نقشہ شیطان کے تناظر میں پیش کیا ہے وہ دراصل یہ کہنا چاہتا تھا ، یا کم از کم اس کا مفہوم یہ لیا جانا چاہئے تھا ، کہ جو انسان غلطی یا گناہ کے بعد ان احساسات سے دو چار ہوتا ہے اسے اپنا آپ شیطان کے بندوں میں شمار کرنا چاہئے۔

یہ سب کچھ میں نے سالوں پہلے سوچا تھا ، جب میں یا تو ایم اے کر رہا تھا یا ایم اے کو پڑھا رہا تھا۔ اگر کسی کو میرے ان صفحات سے گزرنے کا موقع ملے تو وہ یا تو پیراڈائز لاسٹ خود پڑھ لے یا کسی سے اصل حقائق پوچھ لے۔ میں جو کچھ لکھ رہا ہوں وہ کوئی تحقیقی مقالہ یا حقائق پر مبنی رپورٹ نہیں ہے۔ کچھ لفظوں کا فرق ہو سکتا ہے موجود ہو لیکن میں اسے دور کرنے کے لئے دوبارہ پیراڈائز لاسٹ نہیں پڑھنا چاہتا۔ میں تو گزشتہ کئی سالوں سے وہ سب کچھ بھولنے کی کوشش کر رہا ہوں جو میں نے انگریزی ادب سے سیکھا تھا۔ اسی طرح اگر کسی کو کوئی اور تضاد نظر آئے تو وہ مفہوم کو سامنے رکھے نہ کہ الفاظ اور تھوڑے بہت مختلف حقائق کو۔ میں جو لکھ رہا ہوں نہ تو اسے فن کا اعلیٰ نمونہ بنانے کا ارادہ رکھتا ہوں اور نہ تاریخی نوعیت کا کوئی ڈاکومنٹ۔ مجھے نہ تو زبان و بیان سے کوئی غرض ہے اور نہ پلاٹ اور تانے بانے سے۔ ان صفحوں میں بہت کچھ بے ترتیب ہو گا بہت کچھ ٹوٹا پھوٹا اور نامکمل۔ بہت کچھ غیر متعلقہ اور بے موقع اور بہت کچھ بہت کچھ گھٹیا اور لایعنی۔ اس لئے جس کسی کو ان صفحوں سے گزرنے کی صعوبت اٹھانی پڑے میری اس سے پیشگی استدعا ہے کہ وہ میری ان غلطیوں کو معاف کر دے۔ اور ایک بات میں بڑے یقین سے کہتا ہوں کہ اگر واقعی وہ ان غلطیوں ، کوتاہیوں اور بیوقوفیوں کو نظر انداز کرنے میں کامیاب ہو گیا تو اسے اس کتاب کا حقیقی فائدہ پہنچنے کے امکانات بہت زیادہ ہیں۔ میری بہت سی باتیں اشاروں کنایوں میں ہوں گی اور بہت سی غیر ضروری تفاصیل سے بھری ہوئی۔ بہت سی بے موقع اور بہت سی بے ترتیب ، غیر متعلقہ اور جملہ معترضہ قسم کی۔ میرے پڑھنے والے کو زبان و بیان کے ان تمام سقموں اور فالٹس سے علیحدہ ہو کر رہنا پڑے گا ورنہ ہو سکتا ہے وہ ان صفحوں سے بیزار ہو جائے۔ میرے لئے سوچنا بہت مشکل ہو چکا ہے ، محسوس کرنا اس سے بھی مشکل اور قلم بند کرنا سب سے مشکل۔ ایک وقت تھا جب پیچیس تیس صفحے کی کہانی لکھنی میرے لئے کوئی مسئلہ نہیں تھا۔ لیکن اب ایک آدھ پیراگراف لکھنا بھی کسی عذاب سے کم نہیں ہے۔

 

Last Updated on Monday, 28 December 2009 05:22
 
انگریزی ادب کے پس منظر میں PDF Print E-mail
Written by عقیدتمند   
Wednesday, 09 September 2009 15:20

۱۔

یوں تو سارا انگریزی ادب لغویات سے بھرا ہوا ہے ، دنیا سے محبت اور اللہ تعالیٰ سے بیگانگی اس کا اثاثہ اور خاصہ ہیں ، لیکن اس میں ایک تصنیف ایسی ہے جسے میں دنیائے ادب کی سب سے سچی تصنیف سمجھتا ہوں۔ غیر مذہبی کتابوں میں اگر کوئی کتاب سچی ہے تو وہ ملٹن کی پیراڈائز لاسٹ ہی ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ملٹن بذات خود ایک مذہبی آدمی تھا اور یہ کہ اس کا رجحان مذہب کے روحانی پہلو کی طرف بھی تھا ، لیکن پیراڈئز لاسٹ پر لکھی گئی تشریحات کو ذہن میں رکھا جائے تو یہی کہنا پڑتا ہے کہ پیراڈائز لاسٹ بھی دنیا کے مقاصد سامنے رکھ کر لکھی گئی تھی۔ دنیا کے مقاصد کتنے بھی اچھے کیوں نہ ہوں دنیا کے مقاصد ہی رہتے ہیں۔ یہاں تو بعض دفعہ لگتا ہے دین کے مقاصد کی بھی اجازت نہیں ہے دینا کے مقاصد کا کیا کہنا کسی نے۔

 

Last Updated on Monday, 28 December 2009 05:23
 


© 2010 ghouth-e-azam.com